data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251007-01-15
لاہور/اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے پیپلز پارٹی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے شرجیل میمن کا مناظرے کا چیلنج قبول کرلیا ہے، وہ ہمارے اتحادی ہیں لیکن جیسی بات کریں گے ویسا جواب آئے گا،کراچی اور لاہور کا فرق سب کے سامنے ہے، آپ کو اپنے ساتھ ان جگہوں کی سیر کرانا چاہتی ہوں، آپ مجھے کشمور لے چلیے، نواب شاہ، گڑھی خدا بخش لے چلیے کہ آپ نے کیا کیا،آپ کے پاس سندھ کی بات کرنے کے لیے کچھ نہیں ، آپ نے ساری سیاست پنجاب کے کندھے پر چڑھ کر کرنی ہے جبکہ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ صرف بھاشن دیئے جا رہے ہیں، پنجاب کے عوام جانتے ہیں کہ ان کے نام پر سیاست اور فوٹو سیشن کے سوا کچھ نہیں ہو رہا،:پیپلز پارٹی نے سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاسوں سے واک آؤٹ کرتے ہوئے ن لیگی قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہماری قیادت کے خلاف بیان بازی پر معافی مانگے،سیاسی بیان بازی پر ن لیگ اور پی پی وفود کے درمیان ہونے والے مذاکرات بھی بے نتیجہ ختم ہوگئے جبکہ سندھ اور پنجاب حکومتوں کے درمیان کشیدگی کے معاملے پر صدر مملکت آصف علی زرداری نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کو فوری کراچی طلب کر لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب نے ہمیشہ بڑا بھائی ہونے کا حق ادا کیا ہے، قدرتی آفت کسی بھی صوبے میں آئے، پنجاب نے بڑے بھائی کا کردار ادا کیا لیکن پنجاب میں مشکل وقت آیا تو لوگوں نے سیاست کی، وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ انہیں امید نہیں تھی کہ مشکل وقت میں پنجاب کے ساتھ ایسا سلوک رکھاجائیگا۔عظمیٰ بخاری کا کہنا تھاکہ ندیم افضل چن نے 5 پریس کانفرنسیں کیں، لغو قسم کے الزامات لگائے، ان سے پوچھیے گا آپ نے سیلاب متاثرین کے لیے کیا کیا ہے؟، پنجاب کا مقدمہ لڑنا ہماری ذمے داری ہے اور ہم لڑیں گے۔صوبائی وزیر نے پیپلز پارٹی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ جیسی بات کریں گے ویسا جواب ان کو آئے گا، آپ کا حال آدھا تیتر آدھا بٹیر والا ہو گیا ہے، وہ ہمارے اتحادی ہیں ہم ان کا بڑا احترام کرتے ہیں لیکن کراچی اور لاہور کا فرق کوئی راکٹ سائنس نہیں، سب کے سامنے ہے، آپ کے پاس سندھ کی بات کرنے کے لیے کچھ نہیں ، آپ نے ساری سیاست پنجاب کے کندھے پر چڑھ کر کرنی ہے، آئیے آپ کو بہاولپور، ملتان، لودھراں، رحیم یار خان، ڈی جی خان دکھاؤں، میں آپ کو اپنے ساتھ ان جگہوں کی سیر کرانا چاہتی ہوں، آپ مجھے کشمور لے چلیے، نواب شاہ، گڑھی خدا بخش لے چلیے کہ آپ نے کیا کیا۔ان کا کہنا تھا کہ میں نے شرجیل میمن کا مناظریکا چیلنج قبول کر لیا ہے، آپ اپنے 17 سال کے صرف 17 پروجیکٹ بتا دیجیے، لاہور آئیں تاکہ میں آپ کو لاہور کی سیر کرواؤں۔ادھر وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے عظمیٰ بخاری کی پریس کانفرنس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلاب متاثرین کی محرومیوں پر سیاست کرنا نہ صرف افسوسناک بلکہ انتہائی شرمناک رویہ ہے۔ ہمارا مطالبہ صاف اور سیدھا ہے کہ سیلاب متاثرین کی عملی مدد کریں، نہ کہ صرف بیانات دیں اور تصویریں بنوائیں، جنوبی پنجاب کے لوگ پنجاب حکومت کو پکار رہے ہیں لیکن وہاں حکومت کی ترجیحات فوٹو سیشنز اور دکھاوے تک محدود ہیں، صرف بھاشن دیئے جا رہے ہیں، ہمارا کام ان کو کھٹکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم 120 روپے کا لیز چپس اور جوس دینے کے لیے 300 روپے کا اپنی تصویر والا پیکٹ نہیں بنواتے، پنجاب حکومت کو چاہیے کہ وہ متاثرین کے زخموں پر مرہم رکھے، پنجاب کے عوام جانتے ہیں کہ ان کے نام پر سیاست اور فوٹو سیشن کے سوا کچھ نہیں ہو رہا۔ علاوہ ازیں پیپلز پارٹی نے سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاسوں سے واک آؤٹ کرتے ہوئے ن لیگی قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہماری قیادت کے خلاف بیان بازی پر معافی مانگے،ن لیگ نے پیپلز پارٹی کو منانے کے لیے رابطہ کیا جس کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی کے چیمبر میں ن لیگ اور پی پی کے وفد کے درمیان ملاقات ہوئی جوکہ بے نتیجہ ختم ہوگئی۔مزید برآںصدر آصف علی زرداری نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کو ٹیلیفون کیا، جس میں سندھ اور پنجاب حکومتوں کے درمیان کشیدگی کے معاملے پر بات چیت ہوئی۔ٹیلیفون پر گفتگو کے دوران صدر زرداری نے وزیر داخلہ کو فوری طور پر کراچی طلب کیا۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی کرتے ہوئے کے درمیان کچھ نہیں پنجاب کے کیا ہے کہا کہ کی سیر کے لیے

پڑھیں:

کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

صدر مسلم لیگ (ن) نوازشریف(nawaz shrif) کا کہنا ہے کہ کسی پر تنقید کرکے،کسی کی برائی کرکے ووٹ نہیں مانگتا بلکہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔

گلگت میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، حکومت ملنے پر کیوں اس علاقے کو نظر انداز کیا گیا؟

کیوں اس علاقے پر توجہ نہیں دی گئی؟ جب وزیراعظم تھا تو کئی بار گلگت آیا اور اسکردو گیا تھا، کئی برسوں بعد آپ سے گفتگو کرکے بہت خوشی ہورہی ہے۔

نوازشریف نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم بننے سے بھی پہلے گلگت،اسکردو آیاتھا، گلگت، بلتستان، اسکردو سے مجھے دلی محبت ہے، جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ گلگت کہاں ہے؟ میرا دل روتا ہے کہ آپ کا پیسہ آپ پر کیوں نہیں لگا یاگیا۔

صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ کسی ایک پارٹی نے یہاں منصوبے کی بنیاد نہیں رکھی، جومیرےزمانے میں ایئرپورٹ تھا، آج بھی وہی ہے، شہبازشریف سے کہوں گا اس ایئرپورٹ کو بڑا کریں، جیٹ طیارے لینڈ کرنے اور ٹیک آف کی گنجائش پیدا کریں گے۔

نوازشریف کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں لواری ٹنل 70سال سے مکمل نہیں ہورہی تھی، ہم نے اربوں روپےخرچ کرکے لواری ٹنل مکمل کی، یہاں منصوبہ شروع ہوتا ہے تو مکمل ہونے کا نام نہیں لیتا۔

گلگت بلتستان میں 10،10 اور12،12گھنٹےکی لوڈشیڈنگ منظور نہیں۔ ووٹ ملے نہ ملے، آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کرسکتے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت آئی تو یہاں ہر دوسرے تیسرے ماہ آتارہوں گا، اپنی نگرانی میں منصوبے مکمل کراؤں گا، تمام اسٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر آپ کے حق میں فیصلہ کریں گے۔ تجارت بڑھنے پر گلگت بلتستان بہت خوشحال ہوجائے گا۔

مزید پڑھیں:پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم

نوازشریف نے کہا کہ مجھے کیوں نکالا؟ کیوں مجھے ملک چھوڑ کر جانا پڑا؟ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا۔ قصور آپ کا بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • حج تھا یا پکنک؟ شدید تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخر عالم نے خاموشی توڑ دی
  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی