سندھ کا دارالحکومت کراچی موئن جو دڑو بنا ہوا ہے‘ کاشف شیخ
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251005-08-21
کراچی (اسٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی سندھ کے امیر کاشف سعید شیخ نے کہا ہے کہ سندھ کا دارالحکومت کراچی بھی موئن جو دڑو بنا ہوا ہے۔شہر کا انفرااسٹرکچراور سڑکیں تباہ ہیں، ٹرانسپورٹ کا کوئی نظام نہیں مگر شہریوں کا چالان بھی ہوگا اور بھاری جرمانے بھی یہ سراسرظلم ہے۔خوشحال سندھ کے عوام کی حالت زار ناقص گورننس کی بدترین مثال ہے۔ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کو بتانا چاہیے کہ 2000 ارب روپے سے زاید خرچ کرنے کے باوجود سندھ کے عوام کی حالت زار اورمحرومیوں کا شکار کیوں ہیں؟ اس جدید دور میں بھی سندھ کے عوام پینے کے صاف پانی، سڑکوں، صحت اور تعلیم جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں، جس کی وجہ سے خطرناک بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ ضلع گھوٹکی صنعتی زون ہونے کے باوجود مقامی لوگوں کو نظر انداز کرنا سندھ کے لوگوں کے ساتھ ناانصافی اور حکومتی نااہلی کا واضح ثبوت ہے۔ نومبر میں مینار پاکستان لاہور پر ہونے والا جماعت اسلامی کا اجتماع عام تاریخی ثابت ہوگا۔ برادر تنظیموں کے قائدین اجتماع کی کامیابی کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قبا آڈیٹوریم میں منعقدہ برادر تنظیموں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں جماعت اسلامی سندھ کے جنرل سیکرٹری محمد یوسف، ڈپٹی جنرل سیکرٹری نواب مجاہدبلوچ، مولانا آفتاب ملک، سہیل احمد شارق سمیت وکلا، مزدوروں، علما کرام اور طلبہ تنظیموں کے صوبائی عہدیداروں نے شرکت کی۔ اجلاس میں اجتماع عام کی تیاریوں اور عوام کی شرکت کے حوالے سے منصوبہ بندی کی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سندھ کے
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔