نوبیل امن انعام 2025: ٹرمپ کے امکانات معدوم، مگر کون ہوگا فاتح؟
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
دنیا کی نظریں ایک بار پھر نوبیل امن انعام 2025 پر مرکوز ہیں، تاہم ماہرین تقریباً متفق ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سال بھی یہ انعام حاصل نہیں کر سکیں گے, چاہے وہ خود کو اس کے مستحق کیوں نہ سمجھیں۔
یہ بھی پڑھیں:’ٹرمپ کو نوبیل انعام کے لیے نامزد کرنے پر آمادہ ہوں مگر‘ ۔۔۔ ؟ ہیلری کلنٹن کا حیران کن بیان
نوبیل کمیٹی جمعہ 10 اکتوبر کو صبح 11 بجے (مقامی وقت) اس سال کے فاتح کا اعلان کرے گی۔
دنیا بھر میں تنازعات میں اضافہسویڈن کی اُپسالہ یونیورسٹی کے مطابق 1946 سے اب تک پہلی بار دنیا میں ریاستی سطح پر اتنی زیادہ مسلح جھڑپیں جاری ہیں جتنی 2024 میں تھیں۔
ٹرمپ کئی بار دعویٰ کر چکے ہیں کہ وہ 8 تنازعات کو حل کرنے پر نوبیل انعام کے حقدار ہیں، مگر ماہرین ان کے اس دعوے کو مبالغہ قرار دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ مچل گئے، ناروے سے نوبیل انعام کا تقاضا کر دیا
اس حوالے سے سویڈن کے بین الاقوامی امور کے ماہر پروفیسر پیٹر والن اسٹین کا کہنا ہے کہ ’نہیں، اس سال یہ ٹرمپ کو نہیں ملے گا، شاید اگلے سال، جب ان کے اقدامات کے گرد مٹی بیٹھ جائے، بشمول غزہ بحران کے‘۔
’امریکا فرسٹ‘ پالیسی پر تنقیدنارویجن ماہر نینا گریگر کے مطابق ٹرمپ کی پالیسیوں نے نوبیل کے بانی الفریڈ نوبیل کی وصیت میں درج امن، بین الاقوامی تعاون اور تخفیفِ اسلحہ کے اصولوں کی نفی کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے امریکا کو متعدد بین الاقوامی معاہدوں اور اداروں سے الگ کیا، تجارتی جنگیں شروع کیں، گرین لینڈ پر قبضے کی دھمکی دی، امریکی شہروں میں فوج تعینات کی، اور جامعات و میڈیا کی آزادی کو نشانہ بنایا۔
نوبیل کمیٹی کا مؤقفنوبیل کمیٹی کے چیئرمین یورگن واٹنے فرائیڈنس نے کہا کہ کمیٹی امیدوار کے مکمل کردار اور اقدامات کو مدنظر رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:آذربائیجان اور آرمینیا نے امن معاہدے پر دستخط کر دیے، ٹرمپ نوبیل امن انعام کے لیے نامزد
یورگن واٹنے فرائیڈنس کے مطابق ہم دیکھتے ہیں کہ اس نے امن کے لیے حقیقی طور پر کیا حاصل کیا ہے۔ یہی ہمارے فیصلے کا بنیادی پیمانہ ہے۔
امیدواروں کی فہرست خفیہ، مگر قیاس آرائیاں جاریاس سال 338 افراد اور تنظیموں کو امن انعام کے لیے نامزد کیا گیا ہے، تاہم نوبیل کمیٹی کے قوانین کے مطابق یہ فہرست 50 سال تک خفیہ رکھی جائے گی۔
2024 میں یہ انعام جاپان کے ایٹمی بم کے متاثرین کے گروپ ’نہون ہیدانکیو‘ کو دیا گیا تھا۔
ممکنہ امیدواراوسلو میں ممکنہ امیدواروں میں سوڈان کے ایمرجنسی ریسپانس رومز (رضاکاروں کا نیٹ ورک)، یولیا ناولنایا (روسی رہنما الیکسی ناولنی کی بیوہ) اور آفس فار ڈیموکریٹک انسٹی ٹیوشنز اینڈ ہیومن رائٹس شامل ہیں۔
ناروے کے انسٹیٹیوٹ فار انٹرنیشنل افیئرز کے ڈائریکٹر ہالورڈ لیرا کے مطابق، حالیہ برسوں میں کمیٹی نے ’انسانی حقوق، جمہوریت، آزادیِ اظہار اور خواتین کے حقوق‘ پر زیادہ توجہ دی ہے۔
غیر متنازعہ یا علامتی انتخاب متوقعماہرین کے مطابق کمیٹی اس سال کوئی غیر متنازعہ یا علامتی فیصلہ کر سکتی ہے، مثلاً اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس، یو این ایجنسیز (UNHCR یا UNRWA) یا عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) جیسی تنظیموں کو انعام دے کر موجودہ عالمی نظام کے دفاع کا پیغام دے سکتی ہے۔
حیران کن فیصلہ بھی ممکنماضی کی طرح اس بار بھی کمیٹی سب کو چونکا سکتی ہے۔ جیسا کہ ماہرین کا کہنا ہے ’نوبیل کمیٹی ہمیشہ وہی کرتی ہے جس کی کسی کو توقع نہیں ہوتی‘۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا اوسلو صدر ٹرمپ غزہ ناروے نوبیل انعام نوبیل کمیٹی یورگن واٹنے فرائیڈنس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا اوسلو ناروے نوبیل انعام نوبیل کمیٹی یورگن واٹنے فرائیڈنس نوبیل کمیٹی نوبیل انعام انعام کے کے مطابق کے لیے اس سال
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔