حماس اور اسرائیل نے امن معاہدے کے پہلے مرحلے پر دستخط کردیے، ٹرمپ کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن: امریکا کی ثالثی میں کئی ماہ سے جاری غزہ امن مذاکرات آخرکار ایک اہم موڑ پر پہنچ گئے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اعلان میں دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل اور حماس نے مجوزہ امن معاہدے کے پہلے مرحلے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے، جو خطے میں ایک نئی امید کی کرن سمجھی جا رہی ہے۔
اس معاہدے کا بنیادی مقصد غزہ میں جاری جنگ کو ختم کرنا، انسانی بحران کو کم کرنا اور ایک پائیدار جنگ بندی کے لیے راستہ ہموار کرنا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ معاہدے کے تحت تمام یرغمالیوں کی جلد رہائی ممکن بنائی جائے گی، جب کہ اسرائیلی افواج طے شدہ حدود کے مطابق مرحلہ وار غزہ سے انخلا کریں گی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ عمل امن کے طویل سفر کی پہلی کامیاب منزل ہے اور تمام فریقین کے ساتھ انصاف پر مبنی سلوک کیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے ثالثی کے کردار پر قطر، مصر اور ترکی کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ دن عرب و مسلم دنیا، اسرائیل اور امریکا سب کے لیے ایک تاریخی موقع ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ معاہدہ اگر مکمل ہوا تو مشرق وسطیٰ میں امن کے نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق غزہ میں جنگ بندی کا باضابطہ اعلان آج متوقع ہے، جبکہ معاہدے کی مزید تفصیلات آئندہ چند روز میں منظر عام پر آئیں گی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، معاہدے کے پہلے مرحلے میں جنگ بندی، یرغمالیوں اور قیدیوں کی رہائی، اور انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔
دوسری جانب قطری وزارتِ خارجہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ دونوں فریق اس ابتدائی معاہدے پر متفق ہو چکے ہیں۔ قطر کے ترجمان نے کہا کہ یہ پہلا قدم ہے جس کے بعد ایک جامع اور دیرپا امن معاہدے کی راہ کھلے گی۔
اُدھر صہیونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بیان میں کہا ہے کہ ہم اپنے تمام شہریوں کو محفوظ واپس لانے کے لیے پُرعزم ہیں۔ یہ معاہدہ ہمارے یرغمالیوں کی واپسی کی جانب پہلا قدم ہے۔
فلسطینی ذرائع کے مطابق غزہ میں عوام اس پیش رفت کو محتاط امید کے ساتھ دیکھ رہے ہیں کیونکہ ماضی میں بھی اسرائیلی وعدے اکثر یکطرفہ اقدامات میں بدل گئے۔
بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ عمل کامیابی سے آگے بڑھا تو یہ گزشتہ ایک سال سے جاری اسرائیلی جارحیت کے بعد انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے سب سے بڑی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے، تاہم اصل امتحان اس وقت شروع ہوگا جب اسرائیل عملی طور پر فوجی انخلا اور امدادی راستوں کی بحالی کی اجازت دے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: معاہدے کے کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔