data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن: امریکا کی ثالثی میں کئی ماہ سے جاری غزہ امن مذاکرات آخرکار ایک اہم موڑ پر پہنچ گئے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اعلان میں دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل اور حماس نے مجوزہ امن معاہدے کے پہلے مرحلے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے، جو خطے میں ایک نئی امید کی کرن سمجھی جا رہی ہے۔

اس معاہدے کا بنیادی مقصد غزہ میں جاری جنگ کو ختم کرنا، انسانی بحران کو کم کرنا اور ایک پائیدار جنگ بندی کے لیے راستہ ہموار کرنا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ معاہدے کے تحت تمام یرغمالیوں کی جلد رہائی ممکن بنائی جائے گی، جب کہ اسرائیلی افواج طے شدہ حدود کے مطابق مرحلہ وار غزہ سے انخلا کریں گی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ عمل امن کے طویل سفر کی پہلی کامیاب منزل ہے اور تمام فریقین کے ساتھ انصاف پر مبنی سلوک کیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے ثالثی کے کردار پر قطر، مصر اور ترکی کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ دن عرب و مسلم دنیا، اسرائیل اور امریکا سب کے لیے ایک تاریخی موقع ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ معاہدہ اگر مکمل ہوا تو مشرق وسطیٰ میں امن کے نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق غزہ میں جنگ بندی کا باضابطہ اعلان آج متوقع ہے، جبکہ معاہدے کی مزید تفصیلات آئندہ چند روز میں منظر عام پر آئیں گی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، معاہدے کے پہلے مرحلے میں جنگ بندی، یرغمالیوں اور قیدیوں کی رہائی، اور انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔

دوسری جانب قطری وزارتِ خارجہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ دونوں فریق اس ابتدائی معاہدے پر متفق ہو چکے ہیں۔ قطر کے ترجمان نے کہا کہ یہ پہلا قدم ہے جس کے بعد ایک جامع اور دیرپا امن معاہدے کی راہ کھلے گی۔

اُدھر صہیونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بیان میں کہا ہے کہ ہم اپنے تمام شہریوں کو محفوظ واپس لانے کے لیے پُرعزم ہیں۔ یہ معاہدہ ہمارے یرغمالیوں کی واپسی کی جانب پہلا قدم ہے۔

فلسطینی ذرائع کے مطابق غزہ میں عوام اس پیش رفت کو محتاط امید کے ساتھ دیکھ رہے ہیں کیونکہ ماضی میں بھی اسرائیلی وعدے اکثر یکطرفہ اقدامات میں بدل گئے۔

بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ عمل کامیابی سے آگے بڑھا تو یہ گزشتہ ایک سال سے جاری اسرائیلی جارحیت کے بعد انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے سب سے بڑی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے، تاہم اصل امتحان اس وقت شروع ہوگا جب اسرائیل عملی طور پر فوجی انخلا اور امدادی راستوں کی بحالی کی اجازت دے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: معاہدے کے کے مطابق کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر

 ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔ 

پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔

ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔  

رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ