برطانوی ہائی کمشنر کی شرجیل انعام میمن سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر)کراچی میں تعینات برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر لانس ڈوم نے سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن سے کراچی میں ملاقات کی۔ برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر لانس ڈوم سے گفتگو کے دوران سندھ کے سینئر وزیر و صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے صوبے کی توانائی پالیسی، جاری منصوبوں اور بین الاقوامی شراکت داریوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر لانس ڈوم سے گفتگو کرتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ حکومت سندھ توانائی کے مختلف منصوبوں پر تیزی سے کام کر رہی ہے، جن میں تھر کول پاور پلانٹس، سولر اور ونڈ ہائبرڈ توانائی منصوبے، اور گھروں کی سولرائزیشن پروگرام شامل ہیں۔ برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر لانس ڈوم نے حکومت سندھ کے کاوشوں اور ترقیاتی منصوبوں کی تعریف کی اور کہا کہ صوبے میں عوامی فلاح و بہبود کے لیے جو کام ہو رہا ہے، وہ قابل ستائش ہے۔ملاقات میں برطانوی ہائی کمیشن کی سینئر پولیٹیکل ایڈوائزر ہْدیٰ اکرام بھی موجود تھیں۔
سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے معزز مہمانوں کو سندھی لنگی کے تحائف بھی پیش کئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شرجیل انعام میمن سندھ کے
پڑھیں:
صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
کراچی:صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
صدر ِمملکت نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔
صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے، عوامی فلاح اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔
ملاقات میں صوبائی وزیرِ آبپاشی صادق عُمرانی، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیرِ صحت میر بخت کاکڑ، وزیرِ لائیو اسٹاک سردار فیصل جمالی، وزیرِ صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیرِ محنت غلام رسول عُمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک تھے۔