وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ہائی ٹیک فارم میکانائزیشن فنانسنگ پروگرام پورٹل  لانچ کردیا 

تفصیلات کے مطابق افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ ہائی ٹیک فارم میکانائزیشن فنانس پروگرام پنجاب میں زرعی انقلاب کا آغاز ثابت ہوگا۔

سیکرٹری زراعت نے ہائی ٹیک فارم میکانائزیشن فنانس پروگرام پر بریفننگ دی اور کہا کہ پنجاب میں 12 قسم ہائی ٹیک زرعی مشینری کے لئے 3 کروڑ تک بلاسود قرضے دیئے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ قرضوں کی ادائیگی کے لئے چھ ماہ کی رعایتی مدت بھی مقرر کی گئی ہے اور سہ ماہی بنیاد پر قرض کی اقساط پانچ سال میں ادا کرنی ہوگی۔ قرض کے لئے فارمر، سروس پروائیڈر اور ایگری کمپنی پورٹل کے ذریعے اپلائی کر سکتے ہیں۔ ہائی ٹیک زرعی مشینری کے مینوفیکچرنگ میں چین کی27، ترکی 10، اٹلی کی 5، جاپان، امریکا، برازیل، اسپین اور بیلا روس کی کمپنیاں شامل ہیں۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ ہائی ٹیک فارم میکانائزیشن فنانسنگ پروگرام میں  ویٹ کمبائن ہارویسٹر، ملٹی کراپ پلانٹر، رائس پلانٹر، نرسری مشین اور رائس ہاروسٹر بھی شامل ہیں جبکہ ویٹ سٹرابیلر، میزکوب ہارویسٹر، سائلج ہارویسٹر، میز کوب ڈایئر، آرچڈ پرنیر، آرچڈ ایئر بلاسٹ سپریئر بھی شامل کیے گئے ہیں۔

ہائی ٹیک ایگری کلچر مشینری میں سنٹرل پیوٹ، اریگیشن سسٹم اور ہائی پاور ٹریکٹر بھی پروگرام میں شامل کیا گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

سیمنٹ پیداوار رائلٹی کیس، پنجاب حکومت کے فیصلے پر وفاقی آئینی عدالت کا سخت اظہارِ تشویش

وفاقی آئینی عدالت میں سیمنٹ پیداوار رائلٹی کیس کی سماعت کے دوران پنجاب حکومت کی جانب سے رائلٹی کے نفاذ کے طریقۂ کار پر عدالت نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کیس کی سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جس میں مختلف قانونی نکات اور رائلٹی کے دائرہ کار پر تفصیلی ریمارکس دیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں:سرکاری ملازمین کی سینیارٹی سے متعلق وفاقی آئینی عدالت نے بڑا فیصلہ سنا دیا

سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ رائلٹی کا نفاذ معدنیات پر ہونا چاہیے نہ کہ سیمنٹ کی تیار شدہ بوری پر، کیونکہ فینشڈ پروڈکٹ پر رائلٹی عائد کرنے سے اس کا بوجھ بالآخر عوام پر منتقل ہوگا۔ جسٹس روزی خان نے کہا کہ فیکٹری مالکان کا نقصان نہیں ہوتا بلکہ رائلٹی کا اثر عام صارف تک پہنچتا ہے، جس سے سیمنٹ کی قیمت میں اضافہ ہوگا۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ حکومت فینش پروڈکٹ پر رائلٹی کیسے وصول کر سکتی ہے اور کیا اس کے نتیجے میں سیمنٹ کی بوری کی قیمت میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو اپنے لاء افسران کو اس معاملے پر واضح ہدایات دینی چاہئیں کہ اس نوعیت کا نفاذ قانونی طور پر مناسب نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:آن لائن بینک فراڈ کیس میں وفاقی آئینی عدالت کا شہری کے حق میں فیصلہ

عدالت میں وکیل احسن بھون نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت صرف معدنیات پر رائلٹی وصول کر سکتی ہے، جبکہ فینشڈ پروڈکٹ پر رائلٹی دراصل ایک بالواسطہ ٹیکس کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیمنٹ کی بوری پر رائلٹی کا نفاذ دراصل ڈبل ایکسائز ٹیکس کی وصولی کے برابر ہے۔

دورانِ سماعت ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے حکومت سے مزید ہدایات لینے کے لیے مہلت دینے کی استدعا کی، جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے مزید وقت فراہم کر دیا۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پنجاب حکومت رائلٹی کیس سیمنٹ کیس وفاقی آئینی عدالت

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت نے پنجاب الیکٹرک سٹی ڈیوٹی رولز 2026 کی حتمی منظوری دیدی
  • سیمنٹ پیداوار رائلٹی کیس، پنجاب حکومت کے فیصلے پر وفاقی آئینی عدالت کا سخت اظہارِ تشویش
  • سینماز کی جلد بندش پر تشویش، فہد مصطفیٰ نے پنجاب حکومت سے بڑا مطالبہ کردیا
  • 200 سال قدیم "از غیب شہید مسجد" کو مودی حکومت نے رات کی تاریکی میں مسمار کردیا
  • فہد مصطفیٰ نےپنجاب حکومت سے سینما اوقات کار میں نرمی کی اپیل کردی
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور