عالمی یوم ڈاک پر نوپ کے زیراہتمام جی پی او حیدرآباد میں تقریب کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر )عالمی یوم ڈاک، ہر سال 9 اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔9 اکتوبر1874ء میں سوئٹزرلینڈ میں پہلی مرتبہ عالمی ڈاک سے متعلق کانفرنس ہوئی جس میں جنرل پوسٹل یونین’’ نامی تنظیم کی بنیاد ڈالی گئی۔ اس معاہدے کو 22ملکوں نے منظور کیا اور یکم جولائی1875ء سے یہ نظام نافذالعمل ہوا۔ 9 اکتوبر کو ڈاک کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس کا مقصد تمام ممالک میں ڈاک کی ترسیل کی ترقی اور ڈاک کے نظام کی بہتری ہے۔عالمی یوم ڈاک کے حوالے سے ایک پروقار تقریب کا انعقاد نیشنل آ رگنائزیشن آف پوسٹل ایمپلائیز یونین(نوپ) کے زیر اہتمام حیدرآباد جی پی او میں کیا گیا۔ اس موقع پر پاکستان، محکمہ ڈاک اور یونیورسل پوسٹل یونین کے پرچم لہرائے گئے۔ شرکاء نے یونیورسل پوسٹل یونین کے سال 2025ء کے تھیم علاقائی خدمت عالمی رسائی سے مزین بینر اٹھا رکھے تھے۔اس تقریب کے روح رواں ندیم رؤف ، بابو شفیق، سلیم میمن، راشد قریشی، سید سلمان شاہ اور دیگر اہلکاروں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر اپنے خطابات میں قائدین نے محکمہ ڈاک کی اہمیت اور عوامی خدمت کے جذبے سے سر شا ر محنت کش عملے کی عمدہ اور بے لوث کارکردگی پر روشنی ڈالی۔مقررین نے آ ئندہ بھی عوامی خدمت کو مزید بہتر سے بہتر کرنے اور عصر حاضر کے جدید تقاضوں کو روبہ عمل لانے کا اعادہ بھی کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔