2025 میں 10 ہزار 115 انٹیلی جنس آپریشنز کے دوران 917 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن)ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے پاکستان دہشتگردی کے ناسور سے نبرد آزما ہے ، جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں ، شہریوں ، انٹیلی جنس ایجنسیز ، افواج پاکستان نے اپنے خون سے دھرتی کو سینچا ہے ۔
کاونٹر ٹیرازم آپریشنز
2024 میں کے پی کے میں 14 ہزار 535 آپریشنز کیئے گئے ، روزانہ کی بنیاد پر 40 آپریشنز کیئے گئے ، 769 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا گیا جوکہ یومیہ 2.
ڈی جی ISPR نے خیبرپختونخوا آنے کی وجہ واضح کردی
2025 میں رواں سال کے دوران اب تک 10 ہزار 115 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیئے جا چکے ہیں جو کہ یومیہ 40 آپریشن بنتے ہیں اس دوران 917 دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا جو کہ روزانہ کی بنیاد پر 3.5 ہیں، کے پی کے میں ان آپریشنز کے دوران 516 شہادتیں ہوئین، جن میں پاک فوج کے 311 ، پولیس کے 73 اور 132 معصوم شہری شامل ہیں۔
مزید :
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کے دوران
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک