پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن)ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے پاکستان دہشتگردی کے ناسور سے نبرد آزما ہے ، جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں ، شہریوں ، انٹیلی جنس ایجنسیز ، افواج  پاکستان نے اپنے خون سے دھرتی کو سینچا ہے ۔

کاونٹر ٹیرازم آپریشنز

2024 میں کے پی کے میں 14 ہزار 535 آپریشنز کیئے گئے ، روزانہ کی بنیاد پر 40 آپریشنز کیئے گئے ، 769 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا گیا جوکہ یومیہ 2.

1 ایک بنتی ہے ، 2024 میں آپریشنز کے دوران کے پی کے میں 577 قیمتی جانوں نے جام شہادت نوش کیا ،  جن میں پاک فوج کے 272 بہادر افسر اور جوان، پولیس کے 140 اور 165 معصوم شہری شامل ہیں۔

ڈی جی ISPR نے خیبرپختونخوا آنے کی وجہ واضح کردی

2025 میں رواں سال کے دوران اب تک 10 ہزار 115 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیئے جا چکے ہیں جو کہ یومیہ 40 آپریشن بنتے ہیں اس دوران 917 دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا جو کہ روزانہ کی بنیاد پر 3.5 ہیں، کے پی کے میں ان آپریشنز کے دوران 516  شہادتیں ہوئین، جن میں پاک فوج کے 311 ، پولیس کے 73 اور 132 معصوم شہری شامل ہیں۔

مزید :

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: کے دوران

پڑھیں:

اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔

اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔

فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔

مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔

اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ