مرید کے : احتجاجی مارچ کے شرکاکی پولیس پر فائر نگ ‘ایس ایچ اوشہید ‘ 48اہلکار زخمی
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
لاہور؍ اسلام آباد؍ مریدکے؍ فیروز والہ؍ شیخوپورہ؍ گوجرانوالہ (نوائے وقت رپورٹ+خصوصی نامہ نگار+ نمائندگان) مریدکے میں مذہبی تنظیم کے مظاہرین کو روکنے پر مظاہرین کی فائرنگ سے ایس ایچ او کوٹ عبدالمالک شہزاد جھمٹ شہید ہو گئے۔ جبکہ رینجرز اور پولیس کے 48 اہلکار بھی زخمی ہو گئے ۔ کارکنوں نے پتھراؤ، کیل دار ڈنڈوں اور پٹرول بموں کا استعمال کیا۔ بعد ازاں انہوں نے فائرنگ بھی کی۔ چالیس سرکاری اور پرائیویٹ گاڑیوں کو آگ بھی لگا دی۔ وکلاء نے ایوان عدل کے باہر احتجاج کیا۔ سول سیکرٹریٹ سے لے کر پی ایم جی چوک تک ٹریفک بند کر دی اور حکومت مخالف نعرے بازی کی۔ مذہبی جماعت کے احتجاج کے باعث سڑکیں اور موٹروے بند ہونے سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا۔ راولپنڈی کے تمام تعلیمی ادارے بھی کھل گئے۔ جڑواں شہروں راولپنڈی اسلام آباد میں سکیورٹی ایک مرتبہ پھر سخت کر دی گئی۔ لاہور میں سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اندرون شہر اور داخلی وخارجی راستے بند کر دئیے گئے جبکہ تعلیمی اداروں میں بھی وقت سے پہلے چھٹی دے دی گئی۔ میٹرو بس اور راستوں کی بندش کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ فیروزپور روڈ پرمیت لے جانے والی ایمبولینس پھنس گئی۔ گوجرانوالہ‘ چند دا قلعہ میں احتجاج کے دوران پولیس اور کارکنوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس مداخلت کے بعد کنٹینرز ہٹا کر راستے کھول دئیے گئے۔ وزیرآباد سے نامہ نگار کے مطابق چناب ٹول پلازہ جی ٹی روڈ، اوجلہ پل، مولانا ظفر علی خان بائی پاس، خانکی بیراج ٹول پلازہ اور قادر آباد بیراج ٹول پلازہ سے کنٹینرز اور رکاوٹیں ہٹا دی گئیں۔ بورے والا سے نامہ نگار کے مطابق مذہبی جماعت کے کارکنوں کے پتھراؤں سے ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر محمد ندیم، فوکل پرسن ڈی ایس پی بورے والا محمد ارشد اے ایس آئی اور اے ایس آئی قاری عبدالغفار، محمد، ناظم اقبال، کانسٹیبل ناصر محمود، طاہر نوید، امجد علی اور محمد انصر زخمی ہوگئے۔ دریں اثناء کراچی کے مختلف علاقوں میں بھی احتجاج کے دوران ہنگامہ آرائی کے باعث دو بچے زخمی ہو گئے۔ شیخوپورہ میں بھی مظاہرین نے راستے بلاک کئے رکھے۔ دریں اثناء شہید ہونے والے ایس ایچ او انسپکٹر شہزاد نواز جھمٹ کے قتل کا مقدمہ سعد رضوی اور انس رضوی اور دیگر افراد مولانا فاروق الحسن، سجاد سیفی، مولانا سرور، ڈاکٹر شاہد گجر سمیت تقریباً 3500 افراد کے خلاف قتل سمیت دہشتگردی کی 30 دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔ دریں اثناء انسپکٹر شہزاد نواز جھمٹ کی نماز جنازہ پولیس لائن شیخوپورہ میں ادا کی گئی جس میں آئی جی عثمان انور‘ آر پی او شیخوپورہ اطہر اسماعیل‘ ارکان اسمبلی‘ ڈی پی او‘ ڈپٹی کمشنر سمیت سرکاری افسروں‘ وکلاء‘ تاجروں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ بعد ازاں شہزاد نواز جھمٹ کی نعش کو ان کے آبائی علاقہ گاؤں کیلے (جٹوال) میں پولیس اعزازات کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا۔ مذہبی تنظیم کے کارکنوں نے سکیم موڑ، بابو صابو، داروغہ والا، چونگی امرسدھو، راوی پل، شاہدرہ ، مانگا منڈی، چونگی دوگیج، کرول گھاٹی نزد رنگ روڈ، پر احتجاج کیا اور شہریوں کی نقل و حرکت کو محدود کئے رکھا۔ پولیس کی مداخلت کے باعث موڑ سمن آباد، بند روڈ سمیت کئی علاقوں سے مظاہرین کو پیچھے ہٹا کر راستے کھلوا دیئے گئے۔مختلف مذہبی و دینی جماعتوں کے رہنماؤں نے صورتحال کی مذمت کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔