لاہور؍ اسلام آباد؍ مریدکے؍ فیروز والہ؍ شیخوپورہ؍ گوجرانوالہ (نوائے وقت رپورٹ+خصوصی نامہ نگار+ نمائندگان) مریدکے میں مذہبی تنظیم کے مظاہرین کو روکنے پر  مظاہرین کی فائرنگ سے ایس ایچ او  کوٹ عبدالمالک شہزاد جھمٹ شہید ہو گئے۔ جبکہ رینجرز اور پولیس کے 48 اہلکار بھی زخمی ہو گئے ۔ کارکنوں نے پتھراؤ، کیل دار ڈنڈوں اور پٹرول بموں کا استعمال کیا۔ بعد ازاں انہوں نے فائرنگ بھی کی۔ چالیس سرکاری اور پرائیویٹ گاڑیوں کو آگ بھی لگا دی۔  وکلاء نے ایوان عدل کے باہر احتجاج کیا۔ سول سیکرٹریٹ سے لے کر پی ایم جی چوک تک ٹریفک بند کر دی اور حکومت مخالف نعرے بازی کی۔ مذہبی جماعت کے احتجاج کے باعث سڑکیں اور موٹروے بند ہونے سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا۔ راولپنڈی کے تمام تعلیمی ادارے بھی کھل گئے۔  جڑواں شہروں راولپنڈی اسلام آباد میں سکیورٹی ایک مرتبہ پھر سخت کر دی گئی۔ لاہور میں سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اندرون شہر اور داخلی وخارجی راستے بند کر دئیے گئے جبکہ تعلیمی اداروں میں بھی وقت سے پہلے چھٹی دے دی گئی۔ میٹرو بس اور راستوں کی بندش کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ فیروزپور روڈ پرمیت لے جانے والی ایمبولینس پھنس گئی۔ گوجرانوالہ‘ چند دا قلعہ میں احتجاج کے دوران پولیس اور کارکنوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس مداخلت کے بعد کنٹینرز ہٹا کر راستے کھول دئیے گئے۔ وزیرآباد سے نامہ نگار کے مطابق چناب ٹول پلازہ جی ٹی روڈ، اوجلہ پل، مولانا ظفر علی خان بائی پاس، خانکی بیراج ٹول پلازہ اور قادر آباد بیراج ٹول پلازہ سے کنٹینرز اور رکاوٹیں ہٹا دی گئیں۔ بورے والا سے نامہ نگار کے مطابق مذہبی جماعت  کے کارکنوں کے پتھراؤں سے ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر محمد ندیم، فوکل پرسن ڈی ایس پی بورے والا محمد ارشد اے ایس آئی اور اے ایس آئی قاری عبدالغفار، محمد، ناظم اقبال، کانسٹیبل ناصر محمود، طاہر نوید، امجد علی اور محمد انصر زخمی ہوگئے۔ دریں اثناء کراچی کے مختلف علاقوں میں بھی احتجاج کے دوران ہنگامہ آرائی کے باعث دو بچے زخمی ہو گئے۔ شیخوپورہ میں بھی مظاہرین نے راستے بلاک کئے رکھے۔ دریں اثناء  شہید ہونے والے ایس ایچ او  انسپکٹر شہزاد نواز جھمٹ کے  قتل کا مقدمہ  سعد رضوی اور انس رضوی اور دیگر افراد مولانا فاروق الحسن، سجاد سیفی، مولانا سرور، ڈاکٹر شاہد گجر سمیت تقریباً 3500 افراد کے خلاف قتل سمیت دہشتگردی کی  30 دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔ دریں اثناء انسپکٹر شہزاد نواز جھمٹ کی نماز جنازہ پولیس لائن شیخوپورہ میں ادا کی گئی جس میں آئی جی عثمان انور‘ آر پی او شیخوپورہ اطہر اسماعیل‘ ارکان اسمبلی‘ ڈی پی او‘ ڈپٹی کمشنر سمیت سرکاری افسروں‘ وکلاء‘ تاجروں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ بعد ازاں شہزاد نواز جھمٹ کی نعش کو ان کے آبائی علاقہ گاؤں کیلے (جٹوال) میں پولیس اعزازات کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا۔ مذہبی تنظیم کے کارکنوں نے  سکیم موڑ، بابو صابو، داروغہ والا، چونگی امرسدھو، راوی پل، شاہدرہ ، مانگا منڈی، چونگی دوگیج، کرول گھاٹی نزد رنگ روڈ، پر احتجاج کیا اور شہریوں کی نقل و حرکت کو محدود کئے رکھا۔ پولیس کی مداخلت کے باعث موڑ سمن آباد، بند روڈ سمیت کئی علاقوں سے مظاہرین کو پیچھے ہٹا کر راستے کھلوا دیئے گئے۔مختلف مذہبی و دینی جماعتوں کے رہنماؤں نے صورتحال کی مذمت کی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

  مٹی کا طوفان ، تیز بارش,2خواتین سمیت5 افراد جاں بحق

ویب ڈیسک :سندھ کے مختلف اضلاع میں مٹی کے طوفان اور تیز بارشوں کے نتیجے میں 2خواتین سمیت5 افراد جاں بحق اور  150سے زائد زخمی ہوگئے۔
نوابشاہ میں مٹی کے طوفان اور تیز بارش سے تباہی مچ گئی اور 2خواتین سمیت 5 افراد جاں بحق جبکہ 70 سے زائد افراد زخمی ہو گئے، ایم ایس یا محمد جمالی کے مطابق پیپلز میڈیکل اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی جبکہ ڈاکٹروں اور اضافی عملے کو طلب کر لیا گیا ہے،جاں بحق افراد میں عمیر عباسی، افضل پلی اورچنیسر مھر سمیت دو خواتین بھی شامل ہیں۔سائن بورڈز، سولر پینلز، ٹرانسفارمرز، بجلی کی تاریں اور درخت گرنے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔
خیرپور ناتھن شاہ میں بھی طوفان کے باعث درجن سے زائد افراد زخمی ہوگئے،شاہ  رحمت اللہ کالونی میں دیوار گرنے سے خاتون سمیت دو بچے شدید زخمی ہوگئے جنہیں تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، نواحی گاؤں دودو لغاری میں بھی دیوار گرنے سے خدابخش لغاری شدید زخمی ہوگئے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

 لاڑکانہ میں گزشتہ رات طوفانی بارش کے باعث بجلی کی 132 کے وی مین سپلائی کے ٹاور گرنے سے بجلی کی سپلائی معطل ہوگئی،132 کے وی ٹرانسمیشن کی سپلائی معطل ہونے سے لاڑکانہ ضلع کی بھی بجلی بندہوگئی،سیپکوانتظامیہ کے مطابق بجلی ٹاورز کی مرمت کا کام جاری ہے اورجلد از جلد بجلی فراہم کردی جائیگی۔

دادوشہر اور مضافاتی علاقوں میں بھی طوفانی ہواؤں سے بڑے پیمانے پر حادثات کے باعث مزید ایک سو سے زائد افراد زخمی ہوگئے جنہیں ڈی ایچ کیو اسپتال دادو منتقل کردیاگیاجہاں انہیں طبی امداد دی جارہی ہے۔ڈاکٹر عتیق الرحمان کے مطابق سٹی بلاک میں 60 سے زائد زخمی لائے گئے ہیں جبکہ  ڈاکٹر اکاش عباسی کے مطابق نیو ڈی ایچ کیو ہسپتال میں 50 سے زائد زخمی لائے گئے،جہاں تمام زخمیوں کو طبی امدادی دی جارہی ہے،متعدد زخمیوں کو ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے، جبکہ تین زخمیوں کو حالت تشویشناک ہونے پر سیہون ریفر کیا گیا ہے۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

  

  
 

متعلقہ مضامین

  •   مٹی کا طوفان ، تیز بارش,2خواتین سمیت5 افراد جاں بحق
  • اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
  • اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا