‘میرا سر شرم سے جھک گیا’، جاوید اختر کی بھارت میں افغان وزیر خارجہ کے استقبال پر سخت تنقید
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
‘میرا سر شرم سے جھک گیا’، جاوید اختر کی بھارت میں افغان وزیر خارجہ کے استقبال پر سخت تنقید WhatsAppFacebookTwitter 0 14 October, 2025 سب نیوز
کابل(آئی پی ایس )بھارتی مصنف اور شاعر جاوید اختر نے بھارت میں موجود میں افغانستان کی طالبان حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی کے پرتپاک استقبال پر سخت الفاظ میں تنقید کی ہے۔ افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی امیر خان متقی اس وقت بھارت کے 6 روزہ دورے پر ہیں، جو طالبان حکومت کے کسی رہنما کا 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد بھارت کا پہلا دورہ ہے۔افغانستان کے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے نئی دہلی میں بھارتی ہم منصب جے شنکر سے ملاقات کی۔جس کے دوران بھارتی وزیر خارجہ نے افغان وزیر خارجہ کو ایمبولینسز کا تحفہ دیا۔
اس کے علاوہ افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے اپنے دورہ بھارت کے موقع پر ریاست اترپردیش میں معروف دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند کا بھی دورہ کیا۔بھارتی مصنف اور شاعر جاوید اختر نے افغان طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی کو بھارت میں دیے گئے استقبال پر شدید ردِعمل دیا ہے۔جاوید اختر نے ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ افغان وزیر خارجہ کا بھارت میں استقبال دیکھ کر شرمندگی سے میرا سر جھک گیا ہے۔
جاوید اختر نے کہا کہ ‘میرا سر شرم سے جھک گیا جب میں دیکھتا ہوں کہ طالبان جو دنیا کا سب سے خطرناک دہشت گرد گروہ ہے کے نمائندے کو کس طرح عزت اور اس کا استقبال کیا جا رہا ہے، وہ بھی ان لوگوں کی جانب سے جو ہر طرح کے دہشت گردوں کے خلاف تقریریں کرتے ہیں’۔انہوں نیدارالعلوم دیوبند پر بھی تنقید کرتیہوئے کہاکہ’ شرم آتی ہے کہ دارالعلوم دیوبند نے ان کا استقبال کیا جنہوں نے لڑکیوں کی تعلیم پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے۔ میرے ہندوستانی بھائیوں اور بہنوں!!! ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے’۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپولیس نے سعد رضوی کے گھر چھاپے میں برآمد ہونیوالے قیمتی سامان اور نقدی کی تفصیل جاری کردی پولیس نے سعد رضوی کے گھر چھاپے میں برآمد ہونیوالے قیمتی سامان اور نقدی کی تفصیل جاری کردی لاہور ٹیسٹ کا تیسرا روز ختم، جنوبی افریقا کو جیت کیلئے 226 رنز درکار نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریٹریشن کے وفد کا سی ڈی اے کا دورہ کرکٹ ٹیم کے برعکس رویہ:سلطان آف جوہر ہاکی کپ میں پاک بھارت کھلاڑیوں کا مصافحہ پاکستان نے یقین دلایا ہے کہ ہمارے مفادات کا تحفظ کیا جائے گا: چین بلاول بھٹو کی گورنر خیبرپختونخوا کو فوری پشاور پہنچ کر عدالتی حکم پر عملدرآمد کی ہدایتCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: افغان وزیر خارجہ جاوید اختر استقبال پر بھارت میں جھک گیا
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔
وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔
تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔
اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔
جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔
جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں