غزہ کی تعمیر نو: ترک صدر اردوان کا اہم اعلان
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
ترک صدر رجب طیب اردوان نے غزہ کی تعمیرِنو کیلئے عالمی حمایت حاصل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
عالمی خبرایجنسی کے مطابق صدر اردوان نے کہا کہ خلیجی ممالک، امریکا اور یورپی ممالک سے غزہ کی تعمیرنو کیلیئے تعاون طلب کریں گے امید ہے غزہ کیلئے مالی معاونت جلد فراہم کی جائےگی۔
طیب اردوان کا کہنا تھا کہ مغربی ممالک کا فلسطین کو تسلیم کرنا دو ریاستی حل کی جانب اہم پیشرفت ہے غزہ کی تعمیرنو خطے کے امن اور استحکام کےلیے ناگزیر ہے۔
اردوان نے اعلان بھی کر چکے ہیں کہ انقرہ جنگ بندی معاہدے کی نگرانی کے لیے ایک “ٹاسک فورس” میں حصہ لے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امید ہے کہ ہم اس ٹاسک فورس میں شامل ہوں گے جو زمین پر معاہدے کے نفاذ کی نگرانی کرے گی۔
ترکیہ نے اسرائیل اور حماس کے درمیان معاہدے کو محفوظ بنانے کے لیے مصر کے شہر شرم الشیخ میں قطر، مصر اور امریکہ کے نمائندوں کے ساتھ شمولیت اختیار کی۔
اردوان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ “غزہ کو فوری طور پر جامع انسانی امداد پہنچانا، اسیروں اور قیدیوں کے تبادلے اور اسرائیل کے لیے فوری طور پر اپنے حملے بند کرنا بہت اہمیت کا حامل ہے”۔
.
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
غزہ؛ فلسطینیوں کی نسل کشی میں اسرائیل بھارت گٹھ جوڑ بے نقاب، تجارتی معاہدے سامنے آگئے
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
غزہ میں فلسطینیوں پر گزشتہ برسوں سے جاری بہیمانہ کارروائیوں نے نہ صرف خطے کو برباد کیا ہے بلکہ عالمی سیاست کی سیاہ حقیقتیں بھی پوری طرح بے نقاب کر دی ہیں۔
اسرائیلی جارحیت کے دوران جو قوتیں پس پردہ صیہونی ریاست کو مدد فراہم کرتی رہیں، اب اُن کے اصل عزائم بھی سامنے آ رہے ہیں۔ تازہ ترین پیش رفت میں بھارت اور اسرائیل کے درمیان ایسا گٹھ جوڑ کھل کر سامنے آ گیا ہے جو فلسطینیوں کی نسل کشی کے دوران قائم ہوا تھا اور اب اسے مختلف معاہدوں اور تجارتی روابط کی صورت میں استحکام دیا جا رہا ہے۔
اس سلسلے میں بھارتی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ تل ابیب میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے درمیان ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں مستقبل کے تعلقات کو نئی سمت دینے کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔
اجلاس میں بھارتی وزیر برائے کامرس و صنعت پیوش گوئل اور ان کے اسرائیلی ہم منصب نیر برکت نے ایک اہم ٹی او آر دستاویز پر دستخط کیے، جس کا مرکزی نکتہ دونوں ریاستوں کے درمیان تجارتی سرگرمیوں کو تیزی سے وسعت دینا ہے۔
اس دستاویز میں یہ بھی شامل ہے کہ بھارت اور اسرائیل اپنی باہمی تجارت کی راہ میں حائل ٹیرف اور نان ٹیرف رکاوٹوں کو بتدریج ختم کریں گے اور تجارت کے ضابطوں میں نرمی لاتے ہوئے سرمایہ کاری کے لیے مزید سازگار ماحول پیدا کیا جائے گا۔
دونوں وزرا نے مشترکہ پریس گفتگو میں کہا کہ بھارت اور اسرائیل کا مقصد ایک جیسا ہے اور دونوں ملک مستقبل میں ایک دوسرے کے مزید قریب آئیں گے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب غزہ کے معصوم شہری مسلسل اسرائیلی جارحیت کا شکار رہے، ہزاروں بے گناہ فلسطینی شہید ہوئے اور پورا خطہ کھنڈر میں تبدیل ہو گیا۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی جانب سے بارہا آواز اٹھائی گئی کہ اسرائیل کی کارروائیاں کھلی جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں، مگر بھارت نے نہ صرف اسرائیلی پالیسیوں کی خاموش حمایت جاری رکھی بلکہ کئی مواقع پر فوجی، تکنیکی اور سفارتی سطح پر بھی تعاون فراہم کیا۔