نو منتخب وزیراعلیٰ کا انتخاب چیلنج کرنے پر مصطفی نواز کھوکھر کا جے یو آئی پر طنز
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک ) صوبہ خیبرپختونخوا کے نو منتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا انتخاب پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے پر سابق سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے
جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو طنز کا نشانہ نبا ڈالا۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی چھوٹی سی خواہش کیا ہے؟ وہ یہ کہ اسٹیبلشمنٹ تحریک انصاف کے ممبر اْنہیں توڑ کر دے تاکہ وہ اپنے بھائی کو وزیر اعلیٰ بنا سکیں لیکن ایک بندہ بھی نہیں ٹوٹا، 26ویں ترمیم ہو یا مشرف کا ایل ایف او ہو، ہر موقع پر مولانا حلوہ کھانے کے لیے فوراً تیار ہو جاتے ہیں بشرطیکہ میٹھے کا تناسب ٹھیک ہو۔خیال رہے کہ مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمیعت علماء اسلام ف نے خیبر پختونخواہ کے نو منتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا انتخاب پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا، اس سلسلے میں خیبر پختونخواہ اسمبلی کے رکن اور جے یو ا?ئی ف کے رہنماء لطف الرحمان کی جانب سے درخواست دائر کردی گئی، جس میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ منظور نہیں ہوا، اس لیے نئے وزیراعلیٰ کا انتخابی عمل غیر ا?ئینی ہے، عدالت سے استدعا کی جاتی ہے کہ سہیل آفریدی کے بطور وزیراعلیٰ انتخاب کے عمل کو کالعدم قرار دیا جائے۔بتایا جارہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے رکن سہیل آفریدی 90 ووٹ لے کر نئے وزیر اعلی خیبرپختونخوا منتخب ہوئے ہیں ، وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے 73 ووٹ درکار تھے، حکومتی اراکین صوبائی اسمبلی نے انتخابی عمل میں بھرپور حصہ لیا جس کے باعث جب نتائج کا اعلان ہوا تو سہیل آفریدی نے واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کرلی جب کہ اپوزیشن نے انتخابی عمل کا بائیکاٹ کیا اور خیبرپختونخواہ میں نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب سے پہلے اپوزیشن اسمبلی سے واک آؤٹ کرگئی۔
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سہیل ا فریدی کا انتخاب
پڑھیں:
طورخمبارڈر بند، کروڑوں کا نقصان، پریشان تاجر مدد کیلئے فضل الرحمان کے پاس پہنچ گئے
پشاور:(نیوزڈیسک)جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے پاک افغان بارڈرز سے وابستہ تاجروں پر مشتمل جرگے نے مفتی محمود مرکز پشاور میں ملاقات کی اور سرحدوں کی طویل بندش پر معاشی و تجارتی خطرات سے آگاہ کیا۔
تاجروں کے مطابق 45 روز سے بارڈرز بند ہیں جس کی وجہ سے تاجروں کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوچکا ہے، اگر حکومت نے فوری طور پر تجارت بحال نہیں کی تو تاجروں سمیت قومی خزانے کو بھی مزید بھاری نقصان کا اندیشہ ہے۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن نے تجارتی بندش پر گہری تشویش و افسوس کا اظہار کیا اور تاجروں کو یقین دہانی کرائی کہ جمعیت علمائے اسلام تاجروں کے اس مسئلے کو لے کر تمام فورمز پر موثر آواز اٹھائے گی۔
وفد میں جے یو آئی فاٹا کے امیر مولانا جمال الدین، سنیٹر مولانا عطاء الحق درویش، مفتی مصباح الدین، شمالی وزیرستان آل ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ثناءاللہ ہمزونی، عبدالستار خان، ملک زرابت خان، ملک روح اللہ سمیت دیگر تاجرشریک تھے۔