’ سگریٹ چھوڑ دیں‘، اردوان کی درخواست پر اطالوی وزیراعظم کا دلچسپ جواب
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
مصر کے ساحلی شہر شرم الشیخ میں منعقدہ غزہ امن کانفرنس کے موقع پر ترک صدر رجب طیب اردوان نے اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی کو سگریٹ نوشی ترک کرنے کا مشورہ دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں:پیوٹن اور اردوان کے درمیان رابطہ: اسرائیلی حملے شامی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار
یہ غیر رسمی گفتگو اس وقت ہوئی جب عالمی رہنما غزہ میں جنگ بندی اور پائیدار امن کے حوالے سے مذاکرات کے لیے جمع تھے۔ اردوان نے مسکراتے ہوئے میلونی سے کہا کہ میں نے آپ کو جہاز سے اترتے دیکھا، آپ بہت اچھی لگ رہی تھیں، لیکن میں آپ کو سگریٹ چھوڑوانا چاہتا ہوں۔
’ یہ ناممکن ہے‘، میکرون کا مذاق
اردوان کی بات پر وہاں موجود فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا،
’یہ ناممکن ہے‘۔
جس پر میلونی نے بھی مسکراتے ہوئے جواب دیا’ مجھے معلوم ہے، مگر اگر میں نے سگریٹ چھوڑ دی تو شاید میں اتنی ملنسار نہ رہوں۔ اور میں کسی کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتی!”
میلونی کا انکشافاطالوی وزیراعظم نے اپنی ایک حالیہ کتاب میں انکشاف کیا تھا کہ سگریٹ نوشی بعض اوقات عالمی رہنماؤں سے تعلقات مضبوط بنانے کا ذریعہ بنتی ہے۔
انہوں نے خاص طور پر ذکر کیا کہ تیونس کے صدر قیس سعید کے ساتھ ان کے تعلقات میں سگریٹ نوشی نے ’برف پگھلانے‘ کا کردار ادا کیا۔
اردوغان کی ’تمباکو فری ترکیہ‘ مہمدوسری جانب صدر اردوان نے ترکیہ میں تمباکو نوشی کے خاتمے کے لیے عزم دہراتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ’اسموک فری ترکیہ‘ منصوبے کے تحت 2024 سے 2028 تک کے لیے جامع ایکشن پلان پر کام کر رہی ہے۔
اس منصوبے میں عوامی آگاہی، نوجوانوں کے تحفظ، اور سگریٹ چھوڑنے میں معاونت کے اقدامات شامل ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سگریٹ نوشی صدر اردوان صدر فرانس میکرون میلونی وزیراعظم اٹلی.ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سگریٹ نوشی صدر اردوان میکرون میلونی وزیراعظم اٹلی سگریٹ نوشی کے لیے
پڑھیں:
پاکستان اور بحرین کے باہمی احترام و اعتماد کو معاشی تعاون میں بدلیں گے: وزیراعظم شہباز شریف
ویب ڈیسک:وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ بحرین آکر ایسا محسوس ہوا جیسے اپنے گھر آئے ہوں، بحرین کے فرمانروا اور ولی عہد کی محبت و عزت ناقابلِ فراموش ہے۔
انہوں نے پاک بحرین دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بحرین کے باہمی احترام و اعتماد کو معاشی تعاون میں بدلیں گے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بحرین کے دارالحکومت منامہ میں کاروباری برادری سے خطاب میں واضح کیا کہ پاکستان اور بحرین کے تعلقات باہمی احترام اور اعتماد پر قائم ہیں اور وقت آگیا ہے کہ ان تعلقات کو معاشی تعاون میں تبدیل کیا جائے۔
کاغان کے بازار میں آگ بھڑک اٹھی،50 کمروں پر مشتمل ہوٹل جل کر راکھ
انہوں نے کہا کہ مذاکرات بہترین ماحول میں ہوئے جس سے تعلقات مزید مضبوط ہوئے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کے پاس دنیا کی نوجوان ترین آبادی ہے، جس میں 60 فیصد نوجوان 15 سے 30 سال کے درمیان ہیں، اور ان نوجوانوں کو آئی ٹی، اے آئی اور جدید مہارتوں کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے بحرینی کاروباری اداروں کے ساتھ مل کر نئی راہیں کھولنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
نیپال کرکٹ لیگ میں سٹہ، 9 بھارتی جواری گرفتار
وزیراعظم نے پاکستانی کمیونٹی کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ بحرین میں مقیم ایک لاکھ سے زائد پاکستانی ملک کا فخر ہیں، اور 484 ملین ڈالر کی ترسیلاتِ زر بھیجنے میں ان کا کردار اہم ہے۔ پاکستانی کمیونٹی دونوں ممالک کی بہترین سفیر ہے۔
محمد شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان بحرین کے وژن اور ترقیاتی ماڈل سے سیکھنے کا خواہاں ہے اور پاکستان کے پاس وسائل، افرادی قوت اور اسٹریٹجک محلِ وقوع کے باعث وسیع مواقع موجود ہیں۔
پنجاب کی عوام کیلئے 3 مرلہ کے مفت پلاٹ، اپلائی کا آسان طریقہ سامنے آگیا
انہوں نے کہا کہ بحرین کی مالیاتی مہارت کے ساتھ مل کر دونوں ممالک بڑی کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں۔
وزیراعظم نے سرمایہ کاری کے مواقع کی جانب توجہ دلائی اور کہا کہ پاکستان زراعت، آئی ٹی، معدنیات، توانائی اور سیاحت میں سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرتا ہے، اور بحرین کے سرمایہ کار پاکستان آئیں اور مشترکہ منصوبوں میں شامل ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جی سی سی فری ٹریڈ ایگریمنٹ جلد حتمی مراحل میں داخل ہو جائے گا اور سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی۔
فضا بدستور آلودہ،لاہورفضائی آلودگی کی عالمی درجہ بندی میں دوسرے نمبر پرآ گیا
خطاب کے آخر میں وزیراعظم نے معروف قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر تیزی سے جانا ہے تو اکیلے جائیں، دور جانا ہے تو مل کر چلیں، یہ پاکستان اور بحرین کے مستقبل کے باہمی تعاون اور مشترکہ ترقی کا بہترین فلسفہ ہے۔