پاک فوج کی بھرپورجوابی کارروائی، افغان طالبان نے جنگ بندی کی درخواست کر دی
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
( احمد منصور)پاک فوج کی سپن بولدک چمن سیکٹر میں بھرپور جوابی کارروائی کے بعد افغان طالبان نے جنگ بندی کی درخواست کردی ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج کی جانب سے افغان طالبان کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جا رہا ہے اورافغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، سپن بولدک چمن سیکٹر میں پاک افواج کی جوابی کارروائی پر افغان طالبان نے فائر بندی کی درخواست کی ہے۔
گندم پالیسی کا نیا ڈرافٹ چاروں صوبوں کو رائے کے لیےبھجوادیاگیا
سکیورٹی ذرائع کا بتانا ہے کہ افغان طالبان نے سوشل میڈیا پرپاک فوج کے ہتھیار قبضے میں لینے کی من گھڑت ویڈیوز جاری کی ہیں، سوشل میڈیا پر افغان طالبان کی جانب سے پھیلائی جانے والی جھوٹی خبروں میں صداقت نہیں۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جس میں متعدد افغان طالبان پوسٹوں، ٹینکس اور عملے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ پاک فوج افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کی کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں، جارحیت کا جواب شدید اور توقع سے بڑھ کر ہوگا۔
لاہور بورڈ کا امتحانی پرچوں کی ری چیکنگ کے طریقہ کار میں تبدیلی لانے کا فیصلہ
.ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: افغان طالبان نے سکیورٹی ذرائع پاک فوج
پڑھیں:
افغان رجیم ناصرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی سلامتی کیلئے خطرہ بن چکی ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائب)ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے رواں سال ملک میں مجموعی طور پر 1873 دہشتگرد جہنم واصل ہوئے جن میں 136 افغانی بھی شامل ہیں۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق 25 نومبر کو ڈی جی آئی ایس پی آر کی سینئر صحافیوں سے ملکی سلامتی کے امور پر تفصیلاً گفتگو ہوئی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ رواں سال ملک بھر میں 67023 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کئے گئے، خیبرپختونخوا میں 12857 اور صوبہ بلوچستان میں 53309 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے گئے، رواں سال مجموعی طور پر 1873 دہشت گرد جہنم واصل ہوئے جن میں 136 افغانی بھی شامل ہیں۔
لاہور، سکول جاتے ہوئے اغوا کی گئی 14 سالہ طالبہ چونگی امرسدھو کے علاقے سے بازیاب
انہوں نے بتایا کہ 4 نومبر 2025 سے اب تک دہشتگردی کے خلاف 4910 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، ان آپریشنز کے دوران 206 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا باررڈر مینجمنٹ پر سکیورٹی اداروں کے حوالے سے گمراہ کن پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، پاک افغان بارڈر انتہائی مشکل اور دشوار گزار راستوں پر مشتمل ہے، خیبر پختونخوا میں پاک افغان سرحد 1229 کلو میٹر پر محیط ہے جس میں 20 کراسنگ پوائنٹس ہیں، پاک افعان سرحد پر پوسٹوں کا فاصلہ 20 سے 25 کلومیٹر تک بھی ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بارڈر فینس اس وقت تک مؤثر نہیں ہو سکتی جب تک وہ آبزرویشن اور فائر سے کور نہ ہو، اگر 2 سے 5 کلو میٹر کے بعد قلعہ بنائیں اور ڈرون سرویلنس کریں تو اس کے لیے کثیر وسائل درکار ہوں گے، پنجاب اور سندھ کے برعکس خیبر پختونخوا میں بارڈر کے دونوں اطراف منقسم گاؤں ہیں، ایسی صورتحال میں آمد و رفت کو کنٹرول کرنا ایک چیلنج ہے۔
اسلام آباد، سابقہ منگیتر نے مبینہ طور پر نئی نویلی دلہن کو قتل کردیا
انہوں نے بتایا کہ دنیا میں بارڈر مینجمنٹ ہمیشہ دونوں ممالک ملکر کرتے ہیں، اس کے برعکس، افغانستان سے دہشتگردوں کی پاکستان میں دراندازی کیلئے افغان طالبان مکمل سہولت کاری کرتے ہیں، اگر افغان بارڈر سے متصل علاقے دیکھیں تو مشکل مؤثر انتظامی ڈھانچہ گورننس کے مسائل میں اضافے کا باعث ہے، ان بارڈر ایریاز میں انتہائی مضبوط پولیٹیکل ٹیرر کرائم گٹھ جوڑ ہے، سہولت کاری فتنہ الخوارج کرتے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا اگر سرحد پار سے دہشتگردوں کی تشکیلیں، اسمگلنگ یا تجارت ہو تو اندرون ملک اس کو روکنا کس کی ذمہ داری ہے؟ اگر لاکھوں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں آپ کے صوبے میں گھوم رہی ہیں تو انہیں کس نے روکنا ہے؟ نان کسٹم پیڈ گاڑیاں اس پولیٹیکل ٹیرر کرائم نیکسز کا حصہ ہیں جو خودکش حملوں میں استعمال ہوتی ہیں۔
سابق بھارتی کپتان سارو گنگولی کی اہلیہ ہراسانی کا شکار، مقدمہ درج
ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ دوحا معاہدے کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے، پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان طالبان رجیم دہشتگردوں کی سہولت کاری بند کریں۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان میں دہشتگردی کے مراکز اور القاعدہ، داعش اور دیگر دہشتگرد تنظیموں کی قیادت موجود ہے، افغانستان سے انہیں اسلحہ اور فنڈنگ بھی ملتی ہے جو پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی ہے، ہم نے افغانستان کے سامنے تمام ثبوت رکھے جنہیں وہ نظرانداز نہیں کر سکتے، پاکستان کا افغان طالبان رجیم سے مطالبہ ہےکہ وہ ایک قابل تصدیق میکینزم کے تحت معاہدہ کریں۔
چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کو 9 مئی کے واقعہ کے دوران ٹیک اوور کرنے کیلئے کہا گیا : نجم سیٹھی کا دعویٰ
ان کا کہنا تھا اگر قابلِ تصدیق میکینزم تھرڈ پارٹی نے رکھنا ہے تو پاکستان کو اس پر اعتراض نہیں ہو گا، پاکستان کے اس مؤقف کی مکمل آگاہی ثالث ممالک کو بھی ہے، فتنہ الخوارج کے بارے میں طالبان رجیم کا یہ دعویٰ کہ وہ پاکستانی ہیں، ہجرت کرکے آئے ہیں، ہمارے مہمان ہیں، غیر منطقی ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا طالبان رجیم نے اس وقت نان اسٹیٹ ایکٹرز پالے ہوئے ہیں، نان اسٹیٹ ایکٹرز خطے کے مختلف ممالک کیلئے خطرہ ہیں، پاکستان کا مطالبہ واضح ہے کہ افغان طالبان کا طرزعمل ایک ریاست کی طرح ہونا چاہیے۔
خود کو سینیٹر نیاز احمد ظاہر کرکے انکے دوست سے رقم ہتھیانے والا نوسرباز گرفتار
ان کا کہنا تھا دوحا مذاکرات میں افغان طالبان نے بین الاقوامی برادری سے اپنی سرزمین دہشتگردی کیلئے استعمال نہ ہونے کا وعدہ کیا، افغان طالبان نے اپنی سرزمین دہشتگردی کیلئے استعمال نہ ہونے کے وعدے پر اب تک عمل نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ افغان طالبان رجیم افغانیوں کا نمائندہ نہیں ہے کیونکہ یہ تمام قومیتوں کی نمائندگی نہیں کرتا، افغانستان کی 50 فیصد خواتین کی نمائندگی کا اس رجیم میں کوئی وجود نہیں، ہمارا افغانیوں کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں، بلکہ ہمارا مسئلہ افغان طالبان رجیم کے ساتھ ہے، پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارت کی بندش کا مسئلہ ہماری سکیورٹی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ سے جڑا ہے، خونریزی اور تجارت اکٹھے نہیں چل سکتے، ہمارے لیے اچھے یا برے دہشتگرد میں کوئی تفریق نہیں، ہمارے لیے اچھا دہشتگرد وہی ہے جو جہنم واصل ہو چکا، ہمیشہ حق باطل پر غالب آتا ہے، ہم حق پر ہیں اور حق ہمیشہ فتحیاب ہوتا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا افغان مہاجرین کی باعزت وطن واپسی کے عمل کے تحت 2024 میں 366704 افراد کو واپس بھیجا جا چکا ہے، 2025 میں 971604 کو افغان مہاجرین کو وطن واپس بھیجا گیا، صرف رواں ماہ یعنی نومبر کے دوران 239574 افراد کو واپس بھیجا گیا۔
مزید :