پنجاب حکومت ،مرید کے آپریشن سے متعلق معلومات ’ چھپانے’ کا دعویٰ مسترد
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251016-08-20
لاہور(نمائندہ جسارت) پنجاب حکومت نے مرید کے آپریشن سے متعلق معلومات کو چھپانے کے انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان ( ایچ آر سی پی) کے دعوؤں کو مسترد کر دیا۔صوبائی وزیراطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا کہ حکومت نے ٹی ایل پی کو اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کی طرف مارچ کرنے سے باز رکھنے کی سنجیدہ کوششیں کیں، لیکن تنظیم نے تعاون کرنے سے انکار کر دیا۔انہوں نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ ’ہم نے یہ آپریشن امن و امان قائم رکھنے کے لیے کیا، کیونکہ مارچ کے شرکا نے تمام اہم راستے، بشمول جی ٹی روڈ، ٹریفک کے لیے بند کر دیے تھے۔‘وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ ایچ آر سی پی نے خود اپنے بیان میں ٹی ایل پی کی نفرت انگیز تقاریر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ذکر کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم نے کوشش کی کہ بات آپریشن تک نہ پہنچے اور یہ صورتحال پیدا نہ ہو، لیکن انتہا پسند عناصر انسانی حقوق پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ عظمیٰ بخاری نے الزام لگایا کہ ٹی ایل پی کے رہنماؤں اور کارکنوں نے اپنی تقاریر میں ’ سنگین نتائج’ کی دھمکیاں دیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں کچھ پولیس اہلکار جاں بحق ہوئے۔انہوں نے کہا کہ فلسطینی، بشمول حماس، امن معاہدے کو قبول کر چکے ہیں، لیکن ٹی ایل پی نے بدنیتی پر مبنی عزائم کے ساتھ امریکی سفارتخانے کی طرف مارچ کرنے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے مزید بتایا کہ آپریشن ابھی جاری ہے، عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ’حکومت آپریشن مکمل ہونے کے بعد تمام معلومات فراہم کرے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ ٹی ایل پی انہوں نے
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔