ٹرمپ کو سنبھالنے کا ہنر صرف شہباز شریف کے پاس ہے، برطانوی اخبار کی رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لندن: برطانوی جریدے دی گارڈین نے اپنی تازہ رپورٹ میں پاکستانی وزیرِاعظم شہباز شریف کی غیر معمولی سفارتی مہارت اور بردباری کی کھل کر تعریف کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق غزہ امن سربراہ اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غیر متوقع اور بعض اوقات بے ساختہ رویے نے کئی عالمی رہنماؤں کو مشکل میں ڈال دیا، لیکن صرف شہباز شریف وہ رہنما ثابت ہوئے جنہوں نے صورتِ حال کو نہ صرف سنبھالا بلکہ ماحول کو خوشگوار بھی بنا دیا۔
دی گارڈین نے لکھا کہ اجلاس کے دوران ٹرمپ نے بعض مواقع پر غیر رسمی حرکات کیں۔ اطالوی وزیراعظم کی تعریف کرتے ہوئے تقریر روک دی، برطانوی وزیراعظم کئیر اسٹارمر کا مائیک خود سنبھال لیا اور کینیڈا کے وزیراعظم کو مذاق میں “گورنر” کہہ دیا۔ اس دوران اجلاس کا نظم متاثر ہوتا نظر آیا، مگر شہباز شریف کی سفارتی حاضر دماغی نے سب کچھ سنبھال لیا۔
رپورٹ کے مطابق وزیراعظم پاکستان نے اپنی تقریر کے آغاز میں ٹرمپ کی تعریفوں کے چند جملے شامل کیے جس سے امریکی صدر فوری طور پر خوشگوار موڈ میں آ گئے۔ جب ٹرمپ دوبارہ اسٹیج کی طرف بڑھے تو شہباز شریف نے مسکراتے ہوئے نہایت شائستگی سے انہیں روکا اور اپنی تقریر مکمل کی، جس پر ٹرمپ بھی قہقہہ لگانے پر مجبور ہوگئے۔
دی گارڈین کے مطابق یہ منظر اس بات کا ثبوت تھا کہ شہباز شریف نے نہ صرف ڈپلومیسی اور اخلاقی فہم کا مظاہرہ کیا بلکہ امریکا جیسے طاقتور رہنما کے غیر متوقع رویے کو بھی اعتماد اور مہارت سے قابو میں رکھا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ان کا یہ رویہ پاکستان کے لیے ایک مثبت سفارتی تاثر بن گیا ہے، جس نے عالمی سطح پر پاکستان کی پراعتماد، متوازن اور بردبار قیادت کی چھاپ چھوڑ دی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شہباز شریف
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
برطانوی ایوانِ بالا کے رکن لارڈ قربان حسین نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات نسل کُشی کی طرف جارہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق لارڈ قربان حسین نے برطانوی پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر کی انسانی حقوق کی صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق وہاں کے حالات نسل کشی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔
انہوں نے جینوسائڈ واچ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے برطانوی حکومت سے پوچھا کہ وہ ان انتباہات کو کس حد تک سنجیدگی سے لیتی ہے اور ممکنہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔
جواب میں برطانوی حکومت کی جانب سے پارلیمانی انڈر سیکرٹری لارڈ کولنز نے کہا کہ برطانیہ انسانی حقوق سے متعلق اپنے دیرینہ مؤقف پر قائم ہے اور بھارتی پولیس یا سکیورٹی فورسز کے خلاف مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی حمایت کرتا ہے۔