فلم ’دیمک‘ کا ہیوسٹن میں شاندار ریڈ کارپٹ اور ہاؤس فل اسکرینگ شو
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
پاکستان میں 20 کروڑ سے زائد کا بزنس کرنے والی جیو فلمز کی کامیاب ہارر فلم ’دیمک‘ نے امریکا میں ہیلووین کے موقع پر ہیوسٹن میں بھی ناظرین کو اپنے سحر میں جکڑ لیا۔
ہیوسٹن کے اسٹار سنیما گِرل میں ریڈیو ہم ایف ایم ریحان صدیقی اور واہ واہ پروڈیکشن کی جانب سے فلم کی شاندار اسکرینگ ایونٹ کا انعقاد کیا گیا، جس میں پاکستانی، انڈین اور جنوبی ایشیائی کمیونٹی کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
پروموٹر ریحان صدیقی نے مختصر نوٹس پر اس ایونٹ کو شاندار انداز میں ممکن بنایا۔ ایونٹ میں فلم کے مرکزی کردار لیجنڈ اداکار فیصل قریشی، اداکارہ سونیا حسین، ہدایتکار رافع راشدی، پروڈیوسر سید مراد علی، اداکار اعجاز اسلم، عدنان صدیقی اور محب مرزا نے بھی شرکت کی۔
اس موقع پر فیصل قریشی کا کہنا تھا کہ امید ہے کہ جیسے پاکستان میں فلم کو بے پناہ مقبولیت ملی، ویسے ہی امریکا میں بھی لوگ ’دیمک‘ کو پسند کریں گے۔ یہ فلم ہمارے سنیما کی پہچان بدلنے جا رہی ہے۔
اداکارہ سونیا حسین کا کہنا تھا کہ دیمک امریکا بھر میں 17 نومبر کو ریلیز ہو رہی ہے اور یہ اب تک کی سب سے زیادہ بزنس کرنے والی ہارر فلم بن چکی ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ دیسی کمیونٹی اسے اسی جذبے سے سراہ رہی ہے جیسے پاکستان میں۔
اکتوبر کے مہینے میں جب امریکا اور کینڈا میں ہر طرف ہیلووین کی گہما گہمی ہے ایسے میں ’دیمک‘ گویا دیسی ناظرین کے لیے ہیلووین کا خصوصی تحفہ ثابت ہوئی ہے خوف، جذبات، اور ثقافتی فخر کا حسین امتزاج ہے۔
یہ فلم صرف ایک ہارر کہانی نہیں بلکہ فن، ثقافت اور جدت کو یکجا کرنے والی کاوش ہے، جس نے پاکستانی سینما کے نئے دور کا آغاز کر دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔
تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔