3 صدیوں سے زائد عرصے بعد مشہور ڈچ مصور یوہانس ورمیر کی شہرہ آفاق پینٹنگ ’گرل ود دا پرل ایئررنگ‘ میں موجود لڑکی کی شناخت سے متعلق معمہ حل ہونے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔

برطانوی آرٹ مورخ اینڈریو گراہم ڈکسن نے اپنی نئی کتاب ورمیر اے لائف لاسٹ اینڈ فاؤنڈ میں انکشاف کیا ہے کہ 1665 میں بنائی گئی اس پینٹنگ میں دکھائی دینے والی لڑکی دراصل ڈچ جوڑے پیٹر کلاززون وین رویفن اور ان کی اہلیہ ماریا ڈی کنائٹ کی بیٹی میگڈالینا تھی۔

گراہم ڈکسن کے مطابق ورمیر کے زیادہ تر فن پارے اسی جوڑے کے لیے بنائے گئے تھے جو نیدرلینڈز کے شہر ڈلفٹ میں مقیم اور ایک مذہبی اصلاحی فرقے ریمانسٹرنٹس سے وابستہ تھے۔ اس فرقے کے ماننے والے حضرت مریم مگدلینی کی پیروی کرتے تھے، اسی مناسبت سے پینٹنگ میں لڑکی کو مگدلینی کے روپ میں نیلے اور سنہری رنگ کے پگڑی نما اسکارف اور نمایاں موتی والی بالی کے ساتھ دکھایا گیا.

مورخ کے مطابق میگڈالینا اس وقت تقریباً 10 سے 12 برس کی عمر میں تھی اور اپنے والدین کی طرح کولیجیئنٹس فرقے سے وابستہ تھی۔ اس فرقے کے لوگ بلوغت میں مذہبی عہد کا اعلان کرتے تھے اور غالباً اسی موقع پر یہ فن پارہ تخلیق کیا گیا۔

دوسری جانب ماہرین فن کی ایک بڑی تعداد اس نئے دعوے سے اتفاق نہیں کرتی، آرٹ مصنفہ روتھ ملنگٹن کے مطابق یہ پینٹنگ کسی حقیقی کردار کی نہیں بلکہ ایک ٹرونی ہے، یعنی فرضی یا علامتی چہرہ۔ ان کے بقول اس پینٹنگ کا اصل حسن اس کی گتھی میں پوشیدہ ہے اور اسے کسی شناخت یافتہ لڑکی سے جوڑنا درست نہیں۔

ناول گرل ود دا پرل ایئررنگ کی مصنفہ ٹریسی چیویلیئر جن کے ناول پر 2003 میں اسکارلٹ جوہانسن کی فلم بنی کہتی ہیں کہ یہ تصویر اس لیے دل کو چھو جاتی ہے کیونکہ اس میں خاموشی اور راز پوشیدہ ہے۔ جیسے ہی آپ اس کے معنی جان لیں، وہ کشش ختم ہوجاتی ہے۔

یوں 360 سال بعد بھی یہ شاہکار فن پارہ اب بھی سوال چھوڑتا ہے، کیا موتی والی لڑکی واقعی میگڈالینا تھی یا صرف ورمیر کی تخلیقی سوچ کا ایک پراسرار روپ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ذریعہ

ذریعہ: WE News

پڑھیں:

کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی

کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ کے دوسرے روز بھی پاکستان کا جادو سر چڑھ کر بولا، قومی ٹیم نے بنگلادیش کو کسی بھی مرحلے پر سنبھلنے کا موقع نہ دیا اور مسلسل تین سیٹ جیت کر 0-3 سے شاندار فتح اپنے نام کر لی۔

پاکستان نے آغاز سے ہی جارحانہ کھیل پیش کرتے ہوئے پہلا سیٹ 16-25 سے جیتا، دوسرے سیٹ میں بھی سبز ہلالی پرچم بلند رکھا اور 17-25 سے کامیابی سمیٹی۔

تیسرے سیٹ میں بنگلادیش نے بھرپور مزاحمت کی، مگر پاکستانی کھلاڑیوں نے اعتماد اور مہارت کا شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے 22-25 سے فتح حاصل کی اور میچ بغیر کوئی سیٹ گنوائے تین صفر سے اپنے نام کر لیا۔

قومی ٹیم کی یہ مسلسل دوسری فتح کاوا چیمپئن شپ میں پاکستان کے مضبوط عزائم کا واضح اعلان ہے جبکہ شاندار کارکردگی نے ٹائٹل کی دوڑ میں پاکستان کو مزید مضبوط امیدوار بنا دیا۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی