بڑی صنعتوں کی پیداوار میں جولائی سے اگست 4.44 فیصد اضافہ ریکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ادارہ شماریات نے رپورٹ جاری کی ہے کہ جولائی سے اگست کے دوران بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 4.44 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ادارہ شماریات کے مطابق بڑی صنعتوں میں 12 شعبوں کی نمو بڑھی، 11 شعبوں کی نمو کم ہوئی، اگست 2025 میں صنعتی پیداوار میں اگست 2024 کی نسبت 0.54 فیصد اضافہ ہوا،جولائی 2025 کی نسبت اگست 2025 میں صنعتوں کی پیداوار 2.
اعداد و شمار کے مطابق مجموعی نمو میں خوراک، تمباکو، ملبوسات، سیمنٹ اور آٹوموبیل سیکٹر کا نمایاں کردار رہا، جولائی سے اگست تک آٹوموبیل سیکٹر کی گروتھ 1.83 فیصد ریکارڈ ہوئی، ملبوسات کے شعبے کی پیداوار 0.84 فیصد، خوراک کے شعبے کی نمو میں 1.02 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
ادارہ شماریات نے بتایا کہ فیبریکیٹڈ میٹریل، پٹرولیم، کیمیکل، فارما اور فرنیچر شعبوں میں معمولی کمی ہوئی، جولائی سے اگست پٹرولیم مصنوعات کی پیداوار 0.21 فیصد کم ہوئی، آئرن اینڈ اسٹیل سیکٹر میں جولائی سے اگست کے دوران 0.16 فیصد کمی ہوئی۔
یہ بھی بتایا گیا کہ فرنیچر 0.17، بیوریجز 0.15، کیمیکلز 0.13 فیصد، فارماسیوٹیکل کی 0.11 کم نمو رہی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔