کرکٹ میں دلچسپ اضافہ:’ٹیسٹ ٹوئنٹی‘ فارمیٹ سے کھیل میں نیا جوش
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کرکٹ کی دنیا میں ایک نیا اور دلکش باب رقم ہو گیا ہے۔ ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کے بعد اب ’ٹیسٹ ٹوئنٹی‘ کے نام سے چوتھا فارمیٹ متعارف کروا دیا گیا ہے، جو کرکٹ کے شائقین کے لیے ایک نیا تجربہ ثابت ہوگا۔
یہ منفرد طرز کھیل 16 اکتوبر کو اسپورٹس سرمایہ کار گورو بہیروانی کی جانب سے متعارف کرایا گیا، جنہوں نے اسے ٹیسٹ کی گہرائی اور ٹی ٹوئنٹی کی تیزی کا حسین امتزاج قرار دیا ہے۔
اس منصوبے کی رونمائی ایک آن لائن تقریب میں ہوئی جس میں دنیائے کرکٹ کے بڑے ناموں نے شرکت کی۔ اس فارمیٹ کی حمایت کرنے والوں میں جنوبی افریقا کے اے بی ڈی ویلیئرز، ویسٹ انڈیز کے سر کلائیو لائیڈ اور آسٹریلیا کے میتھیو ہیڈن شامل ہیں، جنہوں نے اسے کرکٹ کے مستقبل کی سمت میں ایک بڑا قدم قرار دیا۔
’ٹیسٹ ٹوئنٹی‘ کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں ٹیسٹ کرکٹ کی حکمتِ عملی اور تکنیک کو ٹی ٹوئنٹی کے جوش اور برق رفتاری کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ اس نئے فارمیٹ میں مجموعی طور پر 80 اوورز ہوں گے اور دونوں ٹیمیں دو دو اننگز کھیلیں گی۔
ہر اننگز 20 اوورز پر مشتمل ہوگی جب کہ ٹیسٹ کی طرح پہلی اننگز کی برتری دوسری اننگز میں شامل کر لی جائے گی۔ اس میں فالو آن، پاور پلے، فری ہٹ، وائیڈ اور نو بال کے وہی قوانین لاگو ہوں گے جو ٹی ٹوئنٹی میں ہوتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر دونوں ٹیموں کے مجموعی اسکور برابر ہوں تو میچ کا فیصلہ سپر اوور سے کیا جائے گا، تاہم اگر کوئی ٹیم 5 وکٹیں باقی رکھتے ہوئے اپنی اننگز مکمل کر لے تو اسے میچ کو ڈرا پر ختم کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔
’ٹیسٹ ٹوئنٹی‘ فارمیٹ کا پہلا ایونٹ جونیئر ٹیسٹ ٹوئنٹی چیمپئن شپ کے نام سے جنوری 2026 میں شروع کیا جائے گا، جس میں 13 سے 19 سال کے کھلاڑی حصہ لیں گے۔ اس ٹورنامنٹ کا مقصد نوجوان کھلاڑیوں کی فیصلہ سازی، حکمت عملی اور ذہنی مضبوطی کو پرکھنا ہے۔
ابتدائی مرحلے میں اس ایونٹ میں 6 فرنچائزز شامل ہوں گی، جن میں تین بھارت سے جبکہ ایک ایک دبئی، لندن اور امریکا سے ہوگی۔ ہر ٹیم میں 16 کھلاڑی ہوں گے جن میں آدھے بھارتی اور آدھے دیگر ممالک سے منتخب کیے جائیں گے۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق ’ٹیسٹ ٹوئنٹی‘ نہ صرف نوجوان نسل کو کھیل کی گہرائی سے روشناس کرائے گا بلکہ مستقبل میں بین الاقوامی کرکٹ کا منظرنامہ بھی بدل سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ٹیسٹ ٹوئنٹی ٹی ٹوئنٹی
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔