لاہور ( اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 18 اکتوبر 2025ء ) سابق مشیر خیبرپختونخواہ حکومت مزمل اسلم نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے گندم کی سپلائی بند کردی جس سے خیبرپختونخواہ میں آٹا مہنگا ہوگیا ہے۔ انہوں نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ اس وقت پنجاب حکومت نے پورے پاکستان میں گندم کی سپلائی بند کی ہوئی ہے جس کی وجہ سے خیبرپختونخواہ میں آٹا 300 روپے تک مہنگا ہوا ہے- یہ ایک غیر آئینی عمل ہے جو پنجاب نے اٹھایا ہے آرٹیکل 151 کے تحت کوئی صوبہ آٹے کی ترسیل نہیں روک سکتا۔

 مزمل اسلم نے کہا کہ ہم نے یہ مسئلہ وفاق کے سامنے رکھا جس پر پنجاب کی وزیراعلی نے کہا اگر ہم ترسیل نہیں روکتے تو ہمارے ہاں مہنگائی ہوگی ، ہم نے موقف اٹھایا کہ آئینی طور پر آپ ملک کے اندر کسی چیز کی ترسیل نہیں روک سکتے۔

(جاری ہے)

تمام فورم نے ہمارا موقف تسلیم کیا ہم امید کرتے ہیں پنجاب حکموت  یہ  غیر آئینی پابندی اٹھا لے گی۔ دوسری جانب سرگودھا میں آٹا غائب ہونے سے مہنگے داموں فروخت ہونے لگا۔

ذرائع کے مطابق سرگودھا میں تھیلا آٹا کی سپلائی میں قلت کے باعث مارکیٹ سے آٹا غائب ہو گیا جس کی مہنگے داموں فروخت کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ صارفین نے بتایا کہ کئی روز سے 10 کلو تھیلا آٹا کی عدم فراہمی پر دوکاندار 905 روپے کی بجائے 970 روپے میں فروخت کر کے لوٹ مار مچائے ہوئے ہیں۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کی سپلائی میں آٹا

پڑھیں:

رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی

رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔

مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔

دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔

اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا