غزہ میں جاری نازک جنگ بندی اس وقت بڑے امتحان سے دوچار ہوگئی، جب اسرائیلی افواج نے یہ الزام لگاتے ہوئے فضائی حملوں کی نئی لہر شروع کردی کہ حماس کے جنگجوؤں نے 2 اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک کردیا ہے۔ اس کے بعد ایک اسرائیلی سیکیورٹی اہلکار نے تصدیق کی کہ غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل عارضی طور پر روک دی گئی ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق بعد ازاں اسرائیلی فوج نے کہاکہ وہ دوبارہ جنگ بندی پر عملدرآمد کر رہی ہے، جب کہ مذکورہ اہلکار کے مطابق امدادی ترسیل پیر سے بحال کردی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کی جانب سے غزہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی پر حماس کا ردعمل آگیا

امریکا کی تجویز کردہ اس جنگ بندی کو ایک ہفتے سے کچھ زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، جس کا مقصد 2 سال سے جاری جنگ کا خاتمہ ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جنگ بندی برقرار ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ یہ مکمل طور پر پُرامن ثابت ہو۔

ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہاکہ حماس کچھ زیادہ ہی چُست و چالاک ثابت ہو رہی ہے، وہ کچھ فائرنگ کر رہے ہیں۔

انہوں نے اشارہ دیاکہ یہ کارروائیاں شاید تنظیم کے اندر موجود باغی عناصر کی جانب سے ہو رہی ہیں، نہ کہ اس کی قیادت کے احکامات پر ایسا ہو رہا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ اس معاملے سے سخت مگر درست طریقے سے نمٹایا جائے گا۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ آیا وہ اسرائیلی حملوں کو جائز سمجھتے ہیں یا نہیں، صرف یہ کہاکہ یہ معاملہ زیرِ جائزہ ہے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہاکہ وہ آئندہ چند روز میں اسرائیل کا دورہ کر سکتے ہیں تاکہ جنگ بندی کی صورتحال کا قریب سے جائزہ لیا جا سکے۔

ادھر غزہ کے محکمہ صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں کم از کم 36 فلسطینی شہید ہوئے، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ اسرائیلی فوج نے کہاکہ اس نے اپنے فوجیوں پر فائرنگ کے بعد حماس کے درجنوں ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

ایک مصری عہدیدار جو جنگ بندی مذاکرات میں شامل ہیں، نے بتایا کہ صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے مسلسل رابطے کیے جا رہے ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے فوج کو ہدایت دی ہے کہ وہ جنگ بندی کی کسی بھی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کرے، تاہم انہوں نے دوبارہ جنگ شروع کرنے کی کوئی دھمکی نہیں دی۔

اسرائیلی فوج کے مطابق جنگجوؤں نے رفح کے ان علاقوں میں فائرنگ کی جو طے شدہ جنگ بندی لائن کے تحت اسرائیلی کنٹرول میں ہیں۔

دوسری جانب حماس نے اسرائیل پر متعدد بار جنگ بندی توڑنے کا الزام لگایا اور کہاکہ رفح میں باقی ماندہ یونٹس سے رابطہ کئی ماہ سے منقطع ہے، لہٰذا وہاں پیش آنے والے واقعات کی ذمہ داری ہم پر عائد نہیں ہوتی۔

فلسطینی عوام اس خوف میں مبتلا ہیں کہ اگر جنگ بندی ٹوٹ گئی تو بھوک اور تباہی سے دوچار یہ علاقہ ایک بار پھر مکمل جنگ کی لپیٹ میں آ جائےگا۔

یرغمالیوں کی باقیات کی شناخت

ادھر حماس کی جانب سے حوالے کیے گئے مزید 2 یرغمالیوں کی لاشوں کی شناخت کرلی گئی ہے۔

دونوں افراد 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے میں مارے گئے تھے۔ گزشتہ ایک ہفتے میں حماس نے 12 یرغمالیوں کی لاشیں واپس کی ہیں۔

اسرائیل نے حماس پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ تمام 28 ہلاک شدہ یرغمالیوں کی باقیات واپس کرے، بصورتِ دیگر رفح کراسنگ تا حکمِ ثانی بند رہے گی۔

دوسری جانب اسرائیل نے 150 فلسطینیوں کی لاشیں غزہ کو واپس کی ہیں، جن میں 15 اتوار کو دی گئیں۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق صرف 25 لاشوں کی شناخت ممکن ہو سکی ہے۔

جنگ بندی کا دوسرا مرحلہ

حماس کا ایک وفد جس کی قیادت خالد الحیہ کررہے ہیں، قاہرہ پہنچ چکا ہے تاکہ ثالثوں اور دیگر فلسطینی دھڑوں کے ساتھ جنگ بندی کے اگلے مراحل پر بات چیت کر سکے۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل نے غزہ میں امداد کا داخلہ روک دیا، قابض فوجیوں پر حملے میں 2 اہلکار ہلاک

اگلے مرحلے میں حماس کا غیر مسلح کیا جانا، اسرائیلی فوج کا مزید علاقوں سے انخلا اور جنگ کے بعد غزہ کی حکمرانی کا نظام طے کرنا شامل ہے۔ امریکی منصوبے کے مطابق ایک بین الاقوامی حمایت یافتہ عبوری اتھارٹی کے قیام کی تجویز ہے۔

حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہاکہ تنظیم کسی نئی حکومت کا حصہ نہیں بننا چاہتی اور ایک ٹیکنوکریٹ انتظامیہ کے قیام کی حمایت کرتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اسرائیل اسرائیل حماس جنگ حماس غزہ جنگ بندی فلسطین وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل اسرائیل حماس جنگ فلسطین وی نیوز اسرائیلی فوج یرغمالیوں کی کے مطابق نے کہاکہ حماس کے کے بعد

پڑھیں:

اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان

وقاص عظیم: وفاقی بجٹ 2026-27 میں اراکین پارلیمنٹ کے اہل خانہ کیلئے اضافی رہائشی سہولیات کی فراہمی کی تجویز سامنے آگئی ہے، جس کے تحت نئے فیملی سوٹس اور سرونٹ کوارٹرز تعمیر کیے جائیں گے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ لاجز میں اراکین پارلیمنٹ کے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کیلئے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

منصوبے کے تحت 500 سرونٹ کوارٹرز بھی تعمیر کیے جائیں گے تاکہ اراکین پارلیمنٹ اور ان کے اہل خانہ کو بہتر رہائشی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ منصوبے کی مجموعی لاگت 7 ارب 40 کروڑ روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ جون 2026 تک اس منصوبے پر 2 ارب 29 کروڑ روپے خرچ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

بجٹ تجاویز کو حتمی منظوری کے بعد آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں شامل کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان