لاس ویگاس: امریکا کے وفاقی ادارے نیشنل سکیورٹی ایڈمنسٹریشن (این این ایس اے) جو جوہری ہتھیاروں کو برقرار رکھنے اور جوہری سائنس کے فوجی استعمال کے ذریعے قومی سلامتی کی حفاظت کا ذمہ دار ہے کے تقریباً 1400 ملازمین کو جبری رخصت پر بھیجنے کے نوٹس جاری کر دیئے گئے ہیں۔ جس کی وجہ وفاقی حکومت کا شٹ ڈاﺅن بتائی گئی ہے جو اَب تیسرے ہفتے کے قریب پہنچ چکا ہے۔

امریکی وزیر برائے توانائی کرس رائٹ نے نارتھ لاس ویگاس میں نیواڈا نیشنل سکیورٹی سائٹ پر ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ پیر کوان ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے فنڈز ختم ہوگئے ہیں جو این این ایس اے کی 25 سالہ تاریخ میں پہلا موقع ہے۔ محکمہ توانائی این این ایس اے جس کا ذیلی ادارہ ہے، نے ایک بیان میں اس رپورٹ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت ا دارے میں ڈیوٹی پر موجود ملازمین کی تعداد 400 سے بھی کم رہ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر شٹ ڈاﺅن جاری رہا تو کنٹریکٹرز کو بھی ملازمت سے فارغ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ این این ایس اے میں کام کرنے والے ملازمین اہم ہیں۔ ہمیں وفاقی حکومت کا شٹ ڈاﺅن جلد از جلد ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

رپورٹ کے مطابق کچھ ماہرین نے اس خدشہ کا اظہار کیا ہے کہ ملازمین کی جبری رخصت جوہری مواد اور فضلہ کے تحفظات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں جس سے ممکنہ طور پر عوامی تحفظ اور قومی سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ مالی سال کے اختتام پر بجٹ سے متجاوز اخراجات کے لیے امریکا کی وفاقی حکومت کو کانگریس سے منظوری لینا ہوتی ہے جو موجودہ حکومت نہیں لے سکی ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: ایس اے شٹ ڈاﺅن

پڑھیں:

ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا