امریکی حکومت کا شٹ ڈاﺅن جاری، NNSA کے 1400ملازمین کی جبری رخصت
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
لاس ویگاس: امریکا کے وفاقی ادارے نیشنل سکیورٹی ایڈمنسٹریشن (این این ایس اے) جو جوہری ہتھیاروں کو برقرار رکھنے اور جوہری سائنس کے فوجی استعمال کے ذریعے قومی سلامتی کی حفاظت کا ذمہ دار ہے کے تقریباً 1400 ملازمین کو جبری رخصت پر بھیجنے کے نوٹس جاری کر دیئے گئے ہیں۔ جس کی وجہ وفاقی حکومت کا شٹ ڈاﺅن بتائی گئی ہے جو اَب تیسرے ہفتے کے قریب پہنچ چکا ہے۔
امریکی وزیر برائے توانائی کرس رائٹ نے نارتھ لاس ویگاس میں نیواڈا نیشنل سکیورٹی سائٹ پر ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ پیر کوان ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے فنڈز ختم ہوگئے ہیں جو این این ایس اے کی 25 سالہ تاریخ میں پہلا موقع ہے۔ محکمہ توانائی این این ایس اے جس کا ذیلی ادارہ ہے، نے ایک بیان میں اس رپورٹ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت ا دارے میں ڈیوٹی پر موجود ملازمین کی تعداد 400 سے بھی کم رہ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر شٹ ڈاﺅن جاری رہا تو کنٹریکٹرز کو بھی ملازمت سے فارغ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ این این ایس اے میں کام کرنے والے ملازمین اہم ہیں۔ ہمیں وفاقی حکومت کا شٹ ڈاﺅن جلد از جلد ختم کرنے کی ضرورت ہے۔
رپورٹ کے مطابق کچھ ماہرین نے اس خدشہ کا اظہار کیا ہے کہ ملازمین کی جبری رخصت جوہری مواد اور فضلہ کے تحفظات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں جس سے ممکنہ طور پر عوامی تحفظ اور قومی سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ مالی سال کے اختتام پر بجٹ سے متجاوز اخراجات کے لیے امریکا کی وفاقی حکومت کو کانگریس سے منظوری لینا ہوتی ہے جو موجودہ حکومت نہیں لے سکی ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف
فائل فوٹوپبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف ہوا ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق حیسکو کے ڈی ڈی او، ایکسیئن اور سی ایف او آفس کی ملی بھگت سے خرد برد کی گئی۔
سی ای او حیسکو کے مطابق اس کیس میں چار ملازمین کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ تین اکاؤنٹس افسران، ایک فنانس افسر کو نوکری سے نکالا گیا۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کے 5 مقدمات درج کیے گئے، 130 سے زائد افراد ملوث تھے، اب تک صرف 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔