Jasarat News:
2026-07-24@02:30:42 GMT

علی خورشیدی کے بیانات حقائق کے منافی ہیں ٗمحمد فاروق

اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251022-08-5
کراچی (اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر سندھ اسمبلی محمد فاروق نے ایم کیو ایم کے رہنما علی خورشیدی کے بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے بیانات حقائق کے منافی اور محض سیاسی پوائنٹ اسکورنگ ہیں۔ محمد فاروق نے واضح کیا کہ حقیقت یہ ہے کہ طویل عرصے تک اقتدار رکھنے والی ایم کیو ایم نے کراچی کو مسائل کی دلدل میں دھکیل دیا اور شہر کے بنیادی ادارے تباہی اور کرپشن کا شکار ہوئے۔محمد فاروق نے کہا کہ واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن میں غیر قانونی بھرتیوں اور سسٹم کی تباہ حالی کی براہِ راست ذمے داری ایم کیو ایم پر عاید ہوتی ہے۔ ایم کیو ایم کے دور میں ادارے نہ صرف ناکارہ ہوئے بلکہ کرپشن کی فضا عام ہوگئی۔وہ لوگ جن کو عوام نے مسترد کیا، آج عوامی خدمت پر تنقید کر رہے ہیں۔پارلیمانی لیڈر نے نشاندہی کی کہ جماعت اسلامی میدانِ عمل میں ہے اور عوامی خدمت کے ذریعے مسائل حل کر رہی ہے۔ جماعت اسلامی کے 9 ٹاؤن میں جاری ترقیاتی کاموں نے ایم کیو ایم کو بوکھلاہٹ میں مبتلا کر دیا ہے، اسی لیے وہ بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شہر کے مسائل نعرے بازی اور الزام تراشی سے حل نہیں ہوں گے۔ دیانت، خدمت اور شفافیت کے ذریعے ہی مسائل کا حقیقی حل ممکن ہے۔محمد فاروق نے علی خورشیدی کے بیانات کو ان کی مایوسی قرار دیا اور کہا کہ اربوں کے فنڈز کھانے والے لوگ آج الزامات لگا کر توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ذاتی مفادات کے لیے کراچی کا سودا کرنے والے آج بھی وفاقی کابینہ میں شامل ہیں اور یہی عناصر شہر کی ترقی میں رکاوٹ ہیں۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: محمد فاروق نے ایم کیو ایم کے بیانات

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم