سندھ ہائیکورٹ: رینجرز اہلکاروں پر حملے کا 27 سال پرانا کیس، عبید کے ٹو کی سزا کالعدم
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
سندھ ہائیکورٹ نے لیاقت آباد میں رینجرز اہلکاروں پر قاتلانہ حملے کے 27 سال پرانے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے ملزم عبید عرف کے ٹو کی عمر قید کی سزا کالعدم قرار دے دی۔
عدالت نے ملزم کی اپیل منظور کرتے ہوئے فیصلہ دیا کہ مقدمے میں دی گئی سزا برقرار نہیں رکھی جا سکتی۔
ایم کیوایم مرکز سے گرفتار تمام ملزمان جیل سے رہاملزم کے وکیل راج علی واحد کے مطابق، اس مقدمے میں پہلے بھی 2 بار ٹرائل ہو چکا ہے، جن میں سے ایک فوجی عدالت میں مکمل ہوا تھا۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ایم کیوایم مرکز 90 سے گرفتار ہونے والے تمام دیگر ملزمان کو جیل سے رہا کیا جا چکا ہے، صرف عبید کے ٹو اب تک قید میں ہیں۔
یہ بھی پڑھیے ایم کیو ایم کارکن عبید کے ٹو کو 26 برس قبل کیے گئے قتل پر سزا سنادی گئی
وکیل نے مزید کہا کہ عبید کے ٹو 2015 سے زیرِ حراست ہیں، جبکہ اس مقدمے میں ان کی گرفتاری 2021 میں ظاہر کی گئی۔
’ملزم نے اعترافِ جرم کیا، سزا درست دی گئی‘، پراسیکیوشن کا مؤقفسرکاری وکیل اقبال اعوان نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے اعترافِ جرم کیا تھا اور انسدادِ دہشتگردی عدالت (ATC) نے قانون کے مطابق عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
ان کے مطابق، ’ملزم بریت کا حقدار نہیں ہے۔‘
پولیس کے مطابق، یہ واقعہ 1998 میں لیاقت آباد کے علاقے میں پیش آیا، جب رینجرز کے اہلکار پکٹ پر موجود جوانوں کو کھانا پہنچانے جا رہے تھے۔
اسی دوران ملزمان نے گھات لگا کر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں سپاہی دلدار حسین شہید اور حوالدار ممتاز علی زخمی ہو گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: رینجرز اور پولیس کی مشترکہ کارروائی، ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ملزم گرفتار
انسدادِ دہشتگردی عدالت نے 2024 میں عبید کے ٹو کو عمر قید کی سزا سنائی تھی، تاہم آج سندھ ہائیکورٹ نے اس سزا کو کالعدم قرار دے کر اپیل منظور کر لی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایم کیو ایم عبید کے ٹو.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایم کیو ایم عبید کے ٹو عبید کے ٹو کے مطابق کی سزا
پڑھیں:
جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
بلوچستان سے رکن قومی اسمبلی جمال رئیسانی نے دعویٰ کیا ہے کہ کالعدم بلوچ عسکری تنظیموں اور بعض سماجی و سیاسی حلقوں کے درمیان روابط موجود ہیں، جبکہ خواتین اور کم عمر لڑکیوں کو مسلح سرگرمیوں میں شامل کرنا بلوچ روایات اور قبائلی اقدار کے منافی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی سرپرستی میں زہریلا پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمال رئیسانی نے کہا کہ کالعدم تنظیم بی ایل اے کے کمانڈر بشیر زیب کا نام مختلف واقعات میں سامنے آتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچ معاشرے کی روایات میں خواتین کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ انہوں نے سابق بلوچ رہنما اکبر بگٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نواب اکبر بگٹی نے بھی یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ بلوچ خواتین کو جنگ کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔
نواب اکبر بگٹی نے کہا تھا کہ ہم جنگ میں خواتین کو استعمال نہیں کریں گے، ہیروف 2 میں شامل خودکش حملہ آور اور کمانڈر شہناز تک تمام کے تانے بانے بی وائی سی سے ملتے ہیں، جمال رئیسانی
مکمل ویڈیو فیس بک پیج پرhttps://t.co/GB5kSKBy0R#Balochistan #Quetta pic.twitter.com/GLHj40tk43
— Daily Intekhab (@Intekhabhd) June 2, 2026
رکن قومی اسمبلی نے الزام عائد کیا کہ حالیہ برسوں میں بعض کم عمر لڑکیوں اور خواتین کو عسکری سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا گیا، جو بلوچ روایات کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض خودکش حملوں اور عسکری کارروائیوں میں خواتین کی شمولیت کے شواہد سامنے آئے ہیں، جس پر سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
جمال رئیسانی کا کہنا تھا کہ دشمن صرف ہتھیاروں کے ذریعے نہیں بلکہ سوشل میڈیا، ہیش ٹیگز، ویڈیوز اور پروپیگنڈا مہمات کے ذریعے بھی نوجوانوں کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک منظم نیٹ ورک مخصوص بیانیے کو فروغ دے کر نوجوان نسل کی سوچ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ بعض افراد اور گروہ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے کالعدم تنظیموں کے بیانیے کو تقویت دیتے ہیں۔ ان کے مطابق سیکیورٹی اداروں اور ریاستی اداروں کے پاس اس حوالے سے مختلف رپورٹس اور شواہد موجود ہیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
جمال رئیسانی نے کہا کہ حکومت دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف مؤثر قانون سازی اور اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے اور بلوچستان کے نوجوانوں کو تشدد کے راستے سے دور رکھنے کے لیے ریاستی سطح پر مختلف پروگرام بھی شروع کیے گئے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل سیاسی مکالمے، جمہوری عمل اور آئینی طریقہ کار میں مضمر ہے، جبکہ تشدد اور مسلح کارروائیاں نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کے امن اور استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران جمال رئیسانی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعض حالیہ واقعات اور عسکری کارروائیوں میں ملوث افراد کے روابط مخصوص حلقوں سے ملتے ہیں، جن کی تحقیقات جاری ہیں۔ تاہم ان الزامات پر متعلقہ فریقین کا مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں