ایم کیو ایم لندن کا کارکن عبید عرف کے ٹو رینجرز اہلکار کے قتل کے مقدمے میں بری
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
ملزم کے وکیل راج علی واحد نے عدالت کو بتایا کہ عبید کے ٹو کو بلاوجہ دوبارہ اسی کیس میں شامل کیا گیا حالانکہ وہ پہلے ہی دیگر مقدمات میں سزا کاٹ رہا تھا۔ پراسیکیوٹر اقبال اعوان کا موقف تھا کہ ملزم نے اعترافِ جرم کیا تھا اور سزا قانون کے مطابق دی گئی تھی، تاہم عدالت نے شواہد ناکافی قرار دیتے ہوئے بریت دے دی۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ ہائیکورٹ نے ایم کیو ایم لندن کے کارکن عبید عرف کے ٹو کو رینجرز اہلکار کے قتل کے مقدمے میں بری کر دیا۔ عدالت نے انسدادِ دہشت گردی عدالت کی جانب سے سنائی گئی عمر قید کی سزا کالعدم قرار دیتے ہوئے ملزم کی اپیل منظور کر لی۔ ذرائع کے مطابق یہ کیس 27 سال پرانا تھا اور 1998ء میں کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں پیش آنے والے واقعے سے متعلق تھا، جس میں رینجرز کے سپاہی دلدار حسین شہید اور حوالدار ممتاز علی زخمی ہوئے تھے، واقعہ اس وقت پیش آیا جب اہلکار اپنے ساتھیوں کو کھانا پہنچانے جا رہے تھے کہ اچانک گھات لگا کر ان پر فائرنگ کی گئی۔
ملزم عبید عرف کے ٹو کو 2015ء میں ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر آپریشن کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد ازاں 2021ء میں اس کیس میں باقاعدہ گرفتاری ظاہر کی گئی۔ انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 2024ء میں ملزم کو جرم ثابت ہونے پر عمر قید اور مقتول اہلکار کے اہلِ خانہ کو پانچ لاکھ روپے معاوضہ دینے کا حکم دیا تھا۔ سندھ ہائیکورٹ نے اب ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ملزم کی بریت کی اپیل منظور کر لی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز