کراچی میں 22ویں ہیلتھ ایشیا نمائش کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان میں صحت اور ٹیکنالوجی کے امتزاج کو فروغ دینے کے لیے 22ویں ہیلتھ ایشیا انٹرنیشنل نمائش 23 تا 25 اکتوبر 2025ء کو کراچی ایکسپو سینٹر میں منعقد ہو رہی ہے۔یہ ایونٹ اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کے تعاون سے منعقد کیا جا رہا ہے، جو صحت کے شعبے میں عالمی سرمایہ کاری اور جدت کے فروغ کی جانب ایک بڑا قدم سمجھا جا رہا ہے۔نمائش میں 24 ممالک کے وفود کی شرکت متوقع ہے، جن میں چین، روس، ایران، ترکیہ، برطانیہ، ہنگری اور دیگر ممالک شامل ہیں۔ تین روزہ ایونٹ کے دوران “مستقبل کے اسپتال” اور “ڈیجیٹل ہیلتھ” کے موضوعات پر خصوصی کانفرنسز ہوں گی، جبکہ ماہرین صحت نظام میں ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے مریضوں کو جدید سہولتوں کی فراہمی پر روشنی ڈالیں گے۔ایونٹ ڈائریکٹر کے مطابق، یہ پلیٹ فارم پاکستان میں صحت کی سہولتوں کو بہتر بنانے اور اسپتالوں میں جدید آلات کے استعمال کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کرے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔