اسلام آباد راولپنڈی میٹرو روٹ پر میراتھن کا انعقاد، غیرملکیوں سمیت سینکڑوں رنرز کی شرکت
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
اسلام آباد نائٹ رن کلب کی جانب سے اتوار کی صبح اسلام آباد-راولپنڈی میٹرو روٹ پر رننگ ایونٹ کا انعقاد کیا گیا۔
ایونٹ میں ہاف میراتھن اور 5 کلو میٹر دوڑ کی دو کیٹیگریز شامل تھیں۔ 5 کلو میٹر ریس کا آغاز اسلام آباد کے کچہری میٹرو اسٹیشن سے ہوا اور اختتام ڈی چوک پر کیا گیا، جبکہ ہاف میراتھن راولپنڈی کے صدر میٹرو اسٹیشن سے شروع ہو کر ڈی چوک اسلام آباد میں مکمل ہوئی۔
یہ بھی پڑھیے: لندن میراتھن میں 40 پاکستانیوں کی شرکت، کینیا کے سیباسشین ساوے فاتح قرار پائے
‘ٹوین سٹی رن’ کے نام سے جڑواں شہروں کے میٹرو روٹ پر ہونے والی یہ اپنی نوعیت کی پہلی میراتھن تھی جس میں مرد، خواتین، بچے اور غیر ملکی شہریوں سمیت سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔
View this post on Instagram
A post shared by Imran Ghazali Official (@imranghazalipk)
دوڑمیں شامل رنرز نے اسلام آباد کے دلکش مناظر اور راولپنڈی کی چہل پہل سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ایونٹ میں بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔
اس موقع پر پوزیشن حاصل کرنے والے کھلاڑیوں میں انعامات جبکہ دیگر شرکا میں میڈلز بھی تقسیم کیے گئے۔
ایونٹ کے دوران میٹرو بسوں کے ذریعے شرکا کو خصوصی شٹل سروس بھی فراہم کی گئی، جس سے دوڑ سے پہلے اور بعد میں آمدورفت میں سہولت رہی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
Islamabad Night Runners Marathon Twin City Run ٹوین سٹی رن دوڑ ریس میٹرو اسٹیشن میراتھن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ٹوین سٹی رن دوڑ میٹرو اسٹیشن میراتھن اسلام آباد
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔