افغان مہاجرین کے چلے جانے سے کوئٹہ میں مکان کی قیمت اور کرایوں پر کتنا اثر پڑا؟
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
کوئٹہ سے افغان مہاجرین کے انخلا کے اثرات شہر کی پراپرٹی مارکیٹ پر نمایاں طور پر ظاہر ہونا شروع ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: افغان مہاجرین کی واپسی، آزاد کشمیر حکومت نے حتمی ٹائم فریم مقرر کر دیا
نواحی علاقوں میں مکانات، پلاٹس اور کرایوں کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی دیکھی جا رہی ہے جب کہ خریداروں کی دلچسپی میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں سے افغان خاندان کوئٹہ کے مضافاتی علاقوں جیسے مشرقی بائی پاس، بروری، پشتون باغ، سیٹلائٹ ٹاون، خالص باوڑی، اور پشتون آباد میں آباد تھے۔
مگر حکومتوں کی جانب سے واپسی کے فیصلے کے بعد ہزاروں افغان خاندان اپنے گھروں کو فروخت کر کے افغانستان واپس جا رہے ہیں۔
وی نیوز سے بات کرتے ہوئے کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے پراپرٹی ڈیلر احمد عتیق کے مطابق افغان مہاجرین کے جانے کے بعد کوئٹہ کے نواحی علاقوں میں جائیداد کی قیمتوں میں 30 سے 50 فیصد تک کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
ان علاقوں میں جہاں زمین کی فی مربع فٹ قیمت پہلے 30 ہزار روپے تھی اب وہ 20 سے 22 ہزار روپے میں دستیاب ہے۔
اسی طرح جو مکانات پہلے ایک کروڑ 20 لاکھ روپے میں فروخت ہوتے تھے ان کی موجودہ قیمت 70 سے 75 لاکھ روپے کے درمیان رہ گئی ہے۔
احمد عتیق نے بتایا کہ پراپرٹی مارکیٹ میں کرایوں کی شرح بھی نمایاں طور پر نیچے آئی ہے۔ اب 3 کمروں کے مکان جو پہلے 25 ہزار روپے ماہانہ کرائے پر ملتے تھے اب ان کا کرایہ 18 سے 20 ہزار روپے ہے۔ مقامی ڈیلرز کے مطابق گھروں کی فراہمی بڑھ گئی ہے مگر کرایہ دار نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں۔
پراپرٹی ڈیلر میر واعظ خان نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ گزشتہ 15 سے 20 سالوں سے اس کاروبار سے وابستہ ہیں لیکن انہوں نے کبھی اس قدر تیزی سے قیمتوں میں کمی نہیں دیکھی۔
انہوں نے کہا کہ پہلے جو مکان 30 لاکھ روپے میں فروخت ہوتا تھا اب وہی مکان 10 لاکھ میں بھی لوگ خریدنے کو تیار نہیں بس لوگ آ کر دیکھتے ہیں لیکن خریدتے نہیں۔
پراپرٹی ڈیلر نے مزید کہا کہ روڈ کے کنارے جو پکے مکانات ہیں جن پر ایک کروڑ روپے تک خرچ آتا ہے آج ان کی قیمت 30 سے 50 لاکھ روپے کے درمیان آ گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بعض مقامات پر تو اس سے بھی کم قیمت لگائی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیے: کراچی پولیس کی کارروائی، افغان مہاجرین کے خالی کیے گئے گھر مسمار کردیے
انہوں نے بتایا کہ مارکیٹ اس وقت مکمل جمود کا شکار ہے، قیمتیں 50 فیصد سے بھی زیادہ گر چکی ہیں اور لوگ جو جائیداد پہلے لاکھوں روپے میں بیچتے تھے اب وہی آدھی قیمت پر بھی فروخت نہیں ہو رہی۔
پشتون آباد کے ایک اور ڈیلر نے بتایا کہ افغان کرایہ دار کئی سال سے انہی گھروں میں مقیم تھے مگر ان کے جانے سے درجنوں گھر خالی ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پہلے کرایہ دار تلاش کرنے میں دیر نہیں لگتی تھی مگر اب لوگ مکان دیکھنے آتے ہیں مگر فیصلہ نہیں کرتے۔
دوسری جانب کوئٹہ کے مرکزی علاقوں جیسے جناح ٹاؤن، سیٹلائٹ ٹاؤن اور ماڈل ٹاؤن میں اگرچہ قیمتوں میں بڑی گراوٹ نہیں آئی تاہم خرید و فروخت تقریباً رک چکی ہے۔
ایک ریئل اسٹیٹ کنسلٹنٹ نے بتایا کہ سرمایہ کار اور خریدار دونوں انتظار میں ہیں کہ مارکیٹ کب مستحکم ہوگی۔
شہر کے رہائشی حمزہ خان کے مطابق قیمتوں میں کمی سے متوسط طبقے کے لیے گھر خریدنے کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پہلے مکان خریدنا ہمارے بس سے باہر تھا مگر اب قیمتیں اتنی کم ہو گئی ہیں کہ ہم جیسے لوگ بھی مکان خرید سکتے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک بلوچستان سے ایک لاکھ کے قریب افغان مہاجرین اپنے وطن واپس جا چکے ہیں جب کہ مزید خاندانوں کی واپسی جاری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر انخلا کا یہ سلسلہ جاری رہا تو کوئٹہ کی پراپرٹی مارکیٹ طویل عرصے کے لیے جمود کا شکار ہو سکتی ہے۔
البتہ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ کمی عارضی ہے اور ایک فطری مارکیٹ ایڈجسٹمنٹ ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جیسے ہی حالات مستحکم ہوں گے اور حکومت سستے رہائشی منصوبے متعارف کرائے گی سرمایہ کاری دوبارہ بڑھ جائے گی۔
مزید پڑھیں: وزیر دفاع نے افغانستان سے سیزفائر برقرار رکھنے کی شرط بتادی
فی الحال کرایوں اور قیمتوں میں کمی کے باعث کوئٹہ کی پراپرٹی مارکیٹ غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے اور ماہرین کے مطابق آنے والے چند ماہ یہ طے کریں گے کہ یہ رجحان عارضی ہے یا طویل المدتی بحران کی شکل اختیار کرے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
کوئٹہ کوئٹہ سےافغان مہاجرین کا انخلا کوئٹہ میں پراپرٹی کی صورتحال.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کوئٹہ افغان مہاجرین کے نے بتایا کہ قیمتوں میں لاکھ روپے ہزار روپے انہوں نے کے مطابق روپے میں کی قیمت کہا کہ
پڑھیں:
مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
آزاد جموں و کشمیر اسمبلی میں مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 مخصوص نشستوں کے مستقبل اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اہم مطالبات پر غور کے لیے ریاست کی سیاسی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) آج مظفرآباد میں منعقد ہوگی۔ کانفرنس کو آزاد کشمیر کی حالیہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ اس کے نتیجے میں مستقبل کی سیاسی حکمت عملی اور ممکنہ فیصلوں کے حوالے سے قیاس آرائیاں بھی زور پکڑ گئی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آل پارٹیز کانفرنس میں مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، اپوزیشن جماعتوں اور دیگر سیاسی و مذہبی حلقوں کے نمائندے شرکت کریں گے۔ اجلاس میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات، خصوصاً مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 اسمبلی نشستوں کے خاتمے کے مطالبے پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے متحرک رہنما شوکت نواز میر کون ہیں؟
آزاد کشمیر اسمبلی میں پاکستان کے مختلف شہروں اور علاقوں میں مقیم کشمیری مہاجرین کی نمائندگی کے لیے 12 نشستیں مختص ہیں۔ ان نشستوں پر بھی آزاد کشمیر کے عام انتخابات کے ساتھ ہی ووٹنگ ہوتی ہے اور منتخب نمائندے قانون ساز اسمبلی کا حصہ بنتے ہیں۔ تاہم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا مؤقف ہے کہ موجودہ حالات میں ان نشستوں کے نظام پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی زیر صدارت پیر کے روز اسلام آباد میں آزاد کشمیر کی صورتحال پر ایک اہم اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں وفاقی مذاکراتی کمیٹی نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہونے والے مذاکرات اور موجودہ سیاسی ماحول پر تفصیلی بریفنگ دی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں 9 جون کو دی جانے والی احتجاجی کال اور حالیہ مذاکراتی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق، اپوزیشن لیڈر خواجہ فاروق احمد، مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی، جبکہ وفاقی مذاکراتی کمیٹی کے ارکان نے بھی وزیراعظم پاکستان کو ایکشن کمیٹی کے مطالبات اور مذاکراتی عمل کے بارے میں آگاہ کیا۔
واضح رہے کہ 30 مئی کو مظفرآباد میں وفاقی مذاکراتی کمیٹی اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے، تاہم ایکشن کمیٹی نے مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے کے مطالبے سے دستبردار ہونے سے انکار کرتے ہوئے 9 جون کے احتجاجی پروگرام کو برقرار رکھا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر حکومت اور عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مذاکرات کیوں ناکام ہوئے؟
پیر کے روز جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اجلاس میں عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ ممکنہ طویل احتجاج کے پیش نظر ایک ماہ کا راشن ذخیرہ کر لیں، جبکہ 9 جون کو آزاد کشمیر بھر میں مکمل شٹر ڈاؤن اور لاک ڈاؤن کی کال بھی دی گئی ہے۔
یاد رہے کہ 2023 میں عوامی ایکشن کمیٹی نے آٹے اور بجلی کی قیمتوں میں کمی سمیت متعدد عوامی مطالبات کے لیے کامیاب احتجاجی تحریک چلائی تھی، جس کے نتیجے میں حکومت نے کئی مطالبات تسلیم کیے تھے۔ گزشتہ برس ستمبر میں بھی کمیٹی نے 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا تھا، جس کے بعد حکومت اور ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری رہا۔
آزاد کشمیر حکومت کا کہنا ہے کہ ایکشن کمیٹی کے 38 میں سے 36 مطالبات پر عملدرآمد ہو چکا ہے، جبکہ اشرافیہ کی مراعات اور مہاجرین کی نشستوں سے متعلق معاملات پر قائم کمیٹیاں اپنی سفارشات تیار کر رہی ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ محض ایک انتظامی یا انتخابی مسئلہ نہیں بلکہ آزاد کشمیر کے سیاسی ڈھانچے، نمائندگی کے نظام اور آئینی توازن سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی خود کو عوامی سطح پر مقبول سمجھتی ہے تو اسے انتخابی سیاست میں حصہ لے کر اپنی عوامی حمایت کو پارلیمانی طاقت میں تبدیل کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق ریاستی امور کو احتجاجی دباؤ کے بجائے جمہوری اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے آگے بڑھایا جانا زیادہ مؤثر اور پائیدار راستہ ہے۔
سیاسی حلقوں کی نظریں اب آج ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس پر مرکوز ہیں، جہاں ہونے والے فیصلے نہ صرف مہاجرین کی نشستوں بلکہ آزاد کشمیر کی مجموعی سیاسی صورتحال اور 9 جون کے متوقع احتجاجی منظرنامے پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آزاد کشمیر جوائنٹ کشمیر مہاجر نشستیں