برطانیہ میں مساجد کی حفاظت کے لیے حکومت کا بڑا اقدام؛ مسلمانوں کے دل جیت لیے
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
برطانیہ میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا واقعات اور مساجد پر حملوں کی روک تھام کے لیے حکومت نے تاریخی قدم اُٹھالیا جسے سراہا جا رہا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی وزیرِ اعظم سر کیئر اسٹارمر نے مساجد پر نفرت انگیز حملوں میں اضافے کے بعد ان کی حفاظت کے لیے 10 ملین پاؤنڈ کی اضافی فنڈنگ کا اعلان کردیا۔
اس بات کا اعلان برطانوی وزیرِ اعظم نے وزیرِ داخلہ شبانہ محمود کے ہمراہ مشرقی سسیکس کی ایک مسجد کے دورے کے موقع پر کیا۔
خیال رہے کہ یہ وہی مسجد جہاں رواں ماہ کے آغاز میں ایک گاڑی کو مسجد کے دروازے کے قریب آگ لگا دی گئی تھی۔
کیئر اسٹارمر نے اس موقع پر کہا کہ برطانیہ کو اپنی رواداری اور یکجہتی پر فخر ہے۔ کسی بھی کمیونٹی پر حملہ دراصل ہماری مشترکہ اقدار پر حملہ ہے جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
انھوں نے واضح کیا کہ مساجد کی حفاظت کے لیے مختص فنڈنگ کا مقصد صرف مالی مدد نہیں بلکہ مسلمانوں کو یہ احساس دلانا ہے کہ وہ برطانوی معاشرے کا محفوظ اور محترم حصہ ہیں۔
وزیرِ داخلہ شبانہ محمود نے بھی اعلان کیا کہ حکومت مساجد کی نگرانی، سیکیورٹی کیمروں، داخلی راستوں اور ہنگامی ردعمل کے نظام کو مزید مضبوط کرے گی۔
انھوں نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے مزید کہا کہ مسجد پر حملہ خوفناک جرم تھا جس کے تباہ کن نتائج نکل سکتے تھے لیکن بروقت بچالیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔
یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔
حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ