ٹی ایل پی پر پابندی، پنجاب حکومت کا رضوی برادران کو بھی گرفتار کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
ٹی ایل پی پر پابندی، پنجاب حکومت کا رضوی برادران کو بھی گرفتار کرنے کا اعلان WhatsAppFacebookTwitter 0 23 October, 2025 سب نیوز
لاہور (آئی پی ایس )وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمی بخاری نے کہا ہے کہ انسانی جانوں کے تحفظ کیلئے رضوی برادران کو بھی جلد گرفتار کیا جائے گا۔ڈی جی پی آر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کہنا تھا کہ صوبے کے امن کے لیے ہر اقدام اٹھائیں گے، پنجاب کے امن کو خراب کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دیں گے، کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی، ہتھیار بندجتھوں کو ریاستی رٹ چیلنج نہیں کرنے دیں گے۔
عظمی بخاری نے کہا کہ ہمارا دین ہر ایک کے ساتھ حسن سلوک کا درس دیتا ہے، پنجاب میں اس وقت 10لاکھ سے زائد افراد کے پاس اسلحہ موجود ہے، 28 اسلحہ ڈیلرز کے لائسنس منسوخ کردیے گئے ہیں، اب کوئی نیا اسلحہ لائسنس جاری نہیں کیا جائے گا۔ وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ جن اسلحہ ڈیلرز کے پاس لائسنس نہیں تھا ان کی دکانیں سیل کردی گئی ہیں، 511اسلحہ ڈیلرز نے لائسنس کی توثیق کے لیے درخواست دی، 90اسلحہ ڈیلرز کے کاغذات کی جانچ پڑتال جاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ غزہ اور فلسطین کی آزادی کے لیے نکلنے والوں نے املاک کو جلایا، پنجاب میں 10 لاکھ 12 ہزار 454 افراد کے پاس انفرادی اسلحہ لائسنس ہے، جن کے پاس اسلحہ لائسنس ہے وہ اسے خدمت مراکز میں رجسٹرڈ کرائیں۔انہوں نے کہا کہ رضوی برادران کی گرفتاری انسانی جانوں کے تحفظ پر کرنی ہے، دونوں بھائیوں کو جلد گرفتار کرلیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ مذہبی جماعت کے احتجاج کے دوران پولیس اہلکاروں پر تشدد کیا گیا، پولیس اہلکاروں کی گاڑیاں چھینی گئیں، شہری املاک کو نقصان پہنچایا گیا، گاڑیوں کو آگ لگائی گئی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرقطر کا 3ارب ڈالر سرمایہ کاری کا اعادہ، اقتصادی اور تیکنیکی تعاون کے پروٹوکولز پر دستخط قطر کا 3ارب ڈالر سرمایہ کاری کا اعادہ، اقتصادی اور تیکنیکی تعاون کے پروٹوکولز پر دستخط خیبرپختونخوا حکومت کا پنجاب سے گندم اور آٹے کی ترسیل بحال کرنے کا مطالبہ گزشتہ سال حج کرنے والوں کو ساڑھے تین ارب روپے واپس کرنے کا فیصلہ اسرائیل مغربی کنارے کے علاقوں کو ضم کرنے سے باز رہے بصورت دیگر سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے، ٹرمپ خواہش ہے بلڈ بنک کی طرح آئی بینک بھی قائم کیا جائے ، معروف ڈاکٹر راشد حسین نت عدالتی بینچ خواہشات کے مطابق نہیں ،آئین و قانون کے مطابق بنیں گے، سپریم کورٹCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: رضوی برادران کرنے کا
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔