ٹی ایل پی پر پابندی سے متعلق فیصلہ چند گھنٹوں میں متوقع ہے: عظمیٰ بخاری
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
—فائل فوٹو
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ کی جانب سے ٹی ایل پی پر پابندی سے متعلق فیصلہ چند گھنٹوں میں متوقع ہے، پنجاب حکومت مکمل کیس بنا کر بھیج چکی ہے۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ٹی ایل پی کے اندرون و بیرون ملک 3600 فنانسرز کی نشاندہی کرلی ہے۔ چندے کی تمام چیزیں مذہبی جماعت کے گھر پہنچتی تھیں، سعد رضوی اور جماعت کے ذمے دار پُرتشدد کارروائیوں میں ملوث تھے، والدین بچوں کو ٹی ایل پی کی سرگرمیوں سے بچائیں، ورنہ ان پر دہشت گردی کے مقدمہ ہوں گے۔
انہوں ے کہا کہ ان کے اکاؤنٹ فریز ہیں، جو لوگ فنانس کرتے تھے ان کی فہرست بن چکی ہے۔ کسی بھی طرح کی کوئی فنڈنگ اس جماعت کو نہیں ہو رہی، مذہبی جماعت کے احتجاج کے دوران پولیس اہلکاروں پر تشدد کیا گیا، پولیس اہلکاروں کی گاڑیاں چھینی گئیں۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں افغانستان کے ساتھ حالیہ سیزفائر معاہدے کے بعد کی صورتِ حال پر غور ہو گا۔
ان کا کہنا ہے کہ شہری املاک کو نقصان پہنچایا گیا، گاڑیوں کو آگ لگائی گئی، غزہ اور فلسطین کی آزادی کے لیے نکلنے والوں نے املاک کو جلایا۔ اگر یہ دوبارہ کوشش کریں گے تو میرا مشورہ ہے کہ نہ کریں نہ یہ کر پائیں گے، ریاست سے نہیں لڑ سکتے، ایک انتہا پسند جماعت کے مقدر کا فیصلہ کچھ دیر میں وفاق کرے گا، اس حکومت نے جو بھی فیصلہ لیا ہے کبھی پیچھے نہیں ہٹی۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں کسی بھی طرح کا اسلحہ لائسنس اب جاری نہیں ہو گا، پنجاب کو اسلحہ سے پاک کرنے کے عزم کی طرف ہمیں جانا ہے، 511 اسلحہ ڈیلرز نے لائسنس کی توثیق کے لیے درخواست دی، 90 اسلحہ ڈیلرز کے کاغذات کی جانچ پڑتال جاری ہے۔
صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ جو لوگ پنجاب میں غیرقانونی طور پر موجود ہیں انہیں اپنے اپنے ملکوں میں جانا ہو گا، ہر ایک کا توڑ ہمارے پاس موجود ہے، جہاں تک گرفتاری کی بات ہے تو گرفتاری بہت جلد ہو جائے گی، پنجاب میں غیرقانونی شہریوں کی معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مارکیٹ بند کرانے اور ٹرانسپورٹ روکنے کی کوشش پر دہشت گردی کے پرچے کٹیں گے، انتہاپسند جتھوں کے پوسٹرز اور پبلسٹی پر مکمل پابندی لگا دی گئی ہے، کسی بھی اشتہاری میٹریل کو لگانے کی اجازت نہیں ہے۔
وزیر اطلاعات کا کہنا ہے کہ جو سامان 2021 میں چھینا گیا تھا وہ تمام فائر آرمز ان کے پاس تھے جو 2025 میں استعمال کیا، درجنوں 15 پر کالز آئیں کہ عام لوگوں کی گاڑیاں چھین رہے ہیں، حکومت کی وہیکلز کو نشانہ بنایا گیا، اتنی شاطر حرکتیں تو کوئی کریمنل مائنڈ ہی کر سکتا ہے، سوشل میڈیا پر اشتعال انگیزی کرنے والے 75 لنکس کو بلاک کیا ہے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ لاؤڈ اسپیکر ایکٹ کی خلاف ورزی پر روزانہ رپورٹ تیار ہو رہی ہے، لاؤڈ اسپیکر کا استعمال جمعے کے خطبات اور اذانوں کے لیے ہے، پراسیکیوشن سیل ہر چیز پر نگرانی اور رپورٹ کر رہا ہے۔ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی، ہمارا دین ہر ایک کے ساتھ حسن سلوک کا درس دیتا ہے، پنجاب کے امن کو خراب کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دیں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ جن اسلحہ ڈیلرز کے پاس لائسنس نہیں تھے ان کی دکانیں سیل کر دی گئی ہیں، صوبے کے امن کے لیے ہر قدم اٹھائیں گے، یہ ان کا طریقہ واردات ہے کہ پولیس کو گھیرتے ہیں اور ان سے اسلحہ، گاڑیاں اور ٹیئر گیس گنز چھینتے ہیں۔
صوبائی وزیر نے یہ بھی کہا کہ سیکیورٹی کمپنیوں کے پاس 37 ہزار 918 اسلحہ لائسنس موجود ہیں، مختلف اداروں کے نام پر 42 ہزار سے زیادہ اسلحہ لائسنس رجسٹرڈ ہیں، جن لوگوں کے پاس اسلحہ لائسنس ہے ان کو بھی خدمت مراکز میں رجسٹر کرانا لازمی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اسلحہ لائسنس ٹی ایل پی نے کہا کہ جماعت کے کا کہنا کے لیے کے پاس
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔