وفاقی کابینہ کا فیصلہ چند گھنٹوں میں متوقع، پنجاب حکومت نے مکمل کیس جمع کر دیا — عظمیٰ بخاری

 

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ انتہا پسند جتھوں کے پوسٹرز اور ان کی پبلسٹی پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے؛ کسی بھی اشتہاری میٹریل کو لگانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ لاؤڈ اسپیکر ایکٹ کی خلاف ورزی پر روزانہ کی بنیاد پر رپورٹس تیار کی جا رہی ہیں اور لاؤڈ اسپیکر کا استعمال جمعے کے خطبات اور اذان تک محدود رہنا چاہیے اس پر پراسیکیوشن سیل نگرانی کر رہا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ مسجدیں بند نہیں کی جائیں گی، مگر کسی کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

وفاقی کابینہ کی جانب سے تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) پر پابندی سے متعلق حتمی فیصلہ چند گھنٹے میں متوقع ہے اور پنجاب حکومت نے اس سلسلے میں مکمل کیس وفاق کو بھیج دیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ کسی مسجد کو بند کیا گیا اور نہ ہی کیا جائے گا، تاہم انتہا پسند جتھوں کی تشہیر پر مکمل پابندی ہوگی اور لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر بھی سخت قواعد لاگو ہوں گے۔

وفاقی کارروائی متوقع، کیس جلد جمع کر دیا گیا

عظمیٰ بخاری نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ پنجاب حکومت نے ٹی ایل پی کے خلاف شواہد اور کیس تفصیلی طور پر وفاقی حکومت کو بھیج دیا ہے تاکہ وفاقی سطح پر فیصلہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس حکومت نے جو بھی فیصلہ لیا وہ پیچھے نہیں ہٹے گی۔

فنانسرز اور چندہ

وزیر اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ ٹی ایل پی کے اندرون و بیرونِ ملک 3,600 فنانسرز کی نشاندہی کر لی گئی ہے اور چندے کی تمام چیزیں جماعت کے ڈھانچے تک پہنچتی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ سعد رضوی اور جماعت کے ذمہ دار پُرتشدد کارروائیوں میں ملوث تھے اور جو لوگ فنانس کرتے تھے ان کے اکاؤنٹس فریز کر دیے گئے ہیں — ان کی فہرست تیار کر لی گئی ہے۔

احتجاج کے دوران تشدد اور املاک کو نقصان، قانونی کارروائی ہوگی

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ مذہبی جماعت کے احتجاج کے دوران پولیس اہلکاروں پر تشدد کیا گیا، پولیس کی گاڑیاں چھینی گئیں اور شہری املاک کو نقصان پہنچایا گیا، گاڑیوں کو آگ لگائی گئی۔

انہوں نے کہا کہ اگر دوبارہ ایسی کوشش کی گئی تو ریاست کے خلاف نہیں لڑا جا سکتا اور قانون کے مطابق سخت کارروائی ہوگی۔ والدین کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو جماعتی سرگرمیوں سے بچائیں ورنہ دہشت گردی کے مقدمات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اسلحہ ڈیلرز، لائسنس کی جانچ اور دکانداریوں کی سیلنگ

وزیر نے بتایا کہ جن اسلحہ ڈیلرز کے پاس لائسنس نہیں تھے ان کی دکانیں سیل کر دی گئیں۔ پنجاب میں 511 اسلحہ ڈیلرز نے لائسنس کی توثیق کے لیے درخواستیں دی تھیں، 90 ڈیلرز کے کاغذات کی جانچ پڑتال جاری ہے جن میں سے 44 کی سماعت مکمل ہو چکی ہے۔

صوبائی حکومت نے اعلان کیا کہ اب کسی بھی طرح کا نیا انفرادی اسلحہ لائسنس جاری نہیں کیا جائے گا اور پنجاب کو اسلحہ سے پاک کرنے کے عزم پر کام جاری ہے۔

غیرقانونی شہریوں کی نشاندہی اور گرفتاریوں کا اعلان

صوبائی وزیر نے کہا کہ جو لوگ غیرقانونی طور پر پنجاب میں موجود ہیں انہیں اپنے ملکوں کو واپس جانا ہوگا اور غیرقانونی شہریوں کی معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ گرفتاریوں کا عمل بہت جلد شروع ہوگا، ان کے بقول ہر ایک کا توڑ ہمارے پاس موجود ہے۔

سوشل میڈیا اور روایتی نشانہ سازیاں

صوبائی وزیر نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر اشتعال انگیزی کرنے والے متعدد لنکس بلاک کیے جا چکے ہیں اور وہیکلز کو نشانہ بنانے، عوامی گاڑیوں کی چھینا چھپٹی جیسی حرکتوں کی تحقیقات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2021 میں چھینے گئے سامان اور فائر آرمز کے حوالے سے معلومات موجود ہیں جن کا استعمال 2025 میں بھی نوٹس میں آیا۔

سیکیورٹی کمپنیز اور رجسٹرڈ لائسنسز

عظمیٰ بخاری نے مزید بتایا کہ سیکیورٹی کمپنیوں کے پاس 37,918 اسلحہ لائسنس رجسٹرڈ ہیں جبکہ مختلف اداروں کے نام پر 42,272 سے زائد لائسنس موجود ہیں۔ جن افراد کے پاس لائسنس ہیں انہیں بھی رجسٹریشن کے لیے سروس سینٹرز پر آ کر اپنا اندراج کروانا لازمی ہوگا۔

قانون کی حکمرانی اور امنِ عامہ

وزیر اطلاعات نے کہا کہ صوبے کے امن کے لیے ہر ضروری قدم اٹھایا جائے گا اور ریاستی ادارے عوام کی حفاظت کے لیے حساس اور بروقت کارروائیاں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا دین بھی ہر ایک کے ساتھ حسنِ سلوک کا درس دیتا ہے اور پنجاب کے امن کو خراب کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ حکومت نے بتایا کہ جائے گا کے لیے گئی ہے کیا جا

پڑھیں:

پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟

پیٹرول کی قیمتوں میں ہر روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور قیمت 327 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے۔

اس اضافے کے بعد سرکاری و نجی شعبے کے ملازمین کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایندھن کی بڑھتی لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہفتے میں دفتری حاضری کم کی جائے اور 2 روز گھر سے کام یعنی ورک فرام ہوم کی اجازت دی جائے۔

تاہم، اس وقت وفاقی حکومت کی جانب سے ہفتے میں صرف 3 دفتری دن یا 2 دن لازمی ورک فرام ہوم کرنے کی کوئی سرکاری تجویز یا منظوری سامنے نہیں آئی۔

یہ بھی پڑھیں:

البتہ حکومت ماضی کی طرح توانائی کی بچت اور کفایت شعاری کے مختلف اقدامات پر غور کر رہی ہے، لیکن موجودہ سرکاری معلومات کے مطابق 3 روزہ آفس ورک کے کسی فیصلے کے زیر غور ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے وی نیوز کو بتایا کہ حکومت نے ماضی میں ایندھن بچانے کے لیے محدود مدت کے لیے دفتری اوقات اور ورکنگ ڈیز میں تبدیلیاں کی تھیں۔

’فی الحال حکومت نے دوبارہ ہفتے میں 3 یا 4  ورکنگ ڈیز نافذ کرنے کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے، نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے۔‘

مزید پڑھیں:

گریڈ 18 کے سرکاری افسر محمد جہانزیب بٹ سمجھتے ہیں کہ اگر ہفتے میں 3 دن دفتر اور 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دی جائے تو ان کے پیٹرول کی مد میں اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔

’میرا زیادہ تر کام لیپ ٹاپ، آن لائن رابطے اور ٹیلی فون کے ذریعے مؤثر انداز میں انجام دیا جا سکتا ہے، جس سے کارکردگی بھی متاثر نہیں ہوگی۔‘

انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث میرے ماہانہ سفری اخراجات بہت بڑھ گئے ہیں، جبکہ آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، جس سے گھریلو بجٹ سنبھالنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں:

’اگر ہفتے میں 2  دن گھر سے کام کرنے کی اجازت مل جائے تو نہ صرف میرے سفری اخراجات کم ہوں گے بلکہ میں اپنی ذمہ داریاں بھی مؤثر انداز میں، بغیر کسی رکاوٹ کے، انجام دیتا رہوں گا۔‘

ٹیلی کام سیکٹر سے منسلک شہزاد خان نے وی نیوز کو بتایا کہ اب دنیا میں بیشتر نوکریاں ایسی ہیں جو لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ کی مدد سے باآسانی کی جا سکتی ہیں۔

گزشتہ 3 ماہ سے ہماری کمپنی نے جمعہ کے روز ورک فرام ہوم کی اجازت دے رکھی ہے لیکن کسی کے کام کا حرج نہیں ہوا۔

’مہنگائی کے اس دور اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے باعث اگر ملازمین کو ہفتے میں 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دے دی جائے تو اس سے لوگوں کو بہت سہولت ہوگی۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آمدنی انٹرنیٹ ایندھن پیٹرول کمپنی گھریلو بجٹ لیپ ٹاپ ملازمین مہنگائی نوکریاں ورک فرام ہوم ورکنگ ڈیز

متعلقہ مضامین

  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم