اینٹی بائیوٹکس کی ریسرچ پر مشترکہ سرمایہ کاری ناگزیر ہے‘ ڈبلیو ایچ او
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جنیوا: ڈبلیو ایچ او نے ترقی یافتہ ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ نئی اینٹی بائیوٹکس کی تیاری و ریسرچ پر مشترکہ سرمایہ کاری کی جائے۔
عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او نے ایک حالیہ بیان میں ترقی یافتہ ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اینٹی بائیوٹکس کے غلط استعمال کونہ صرف روکیں بلکہ بیکٹیریل انفیکشنز کی نگرانی کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ نئی اینٹی بائیوٹکس کی تیاری و تحقیق پر مشترکہ سرمایہ کاری کریں۔ عالمی ادارہ صحت نے اپنی تازہ رپورٹ میں عالمی سطح پر اینٹی بائیوٹکس کے خلاف بڑھتی ہوئی مزاحمت پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پورٹ کے مطابق اینٹی بائیوٹکس کے غلط استعمال کے باعث ایسے بیکٹیریا پیدا ہو رہے ہیں کہ جن پر عام دوائیں اثر نہیں کرتیں۔ ایسے رجحان کو سپر بگزکہا جاتا ہے جو علاج مشکل ہونے کے ساتھ ساتھ ہر سال لاکھوں اموات کا سبب بھی بن جاتے ہیں۔ مذکورہ حوالے سے اقوام متحدہ نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو 2050 ءتک اینٹی بائیوٹک مزاحم انفیکشنز دنیا میں سب سے بڑی موت کی وجہ بن سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اینٹی بائیوٹکس کیا ہے
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔