بنگلہ دیش ملبوسات کی نئی عالمی منزل، چینی سرمایہ کاری میں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
امریکی محصولات اور چین میں بڑھتی پیداواری لاگت کے باعث چینی کمپنیاں تیزی سے بنگلہ دیش کا رخ کر رہی ہیں، جہاں ملبوسات کے شعبے میں حالیہ برسوں میں چینی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اس پیشرفت سے بنگلہ دیش عالمی سپلائی چین میں ایک نئے اسٹریٹجک مرکز کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کی درآمدی پابندی سے بنگلہ دیش کی ساڑھی صنعت بحران کا شکار
چین سے امریکا کو ملبوسات کی برآمدات میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران نمایاں کمی آئی ہے، جہاں اب اوسط محصول 50 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔
Chinese investment in Bangladesh has gained fresh momentum across multiple sectors in recent months, with a sharp uptick now focused on the apparel industry as rising US tariffs and production costs erode China's global dominance in garment exports.
— Jashim (@jashim4truth) October 24, 2025
اس کے مقابلے میں بنگلہ دیشی مصنوعات پر اوسطاً 36 فیصد ڈیوٹی عائد ہوتی ہے، جس نے مغربی مارکیٹ کے لیے اسے ایک پرکشش متبادل بنا دیا ہے۔
بنگلہ دیش گارمنٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق، گزشتہ سال 20 سے زائد فیکٹریوں میں چینی سرمایہ کاری کی گئی۔
مزید پڑھیں:بنگلہ دیش میں قائداعظم پر سیمنار، عظیم رہنما کی یاد تاریخی ذمہ داری قرار
چینی سرمایہ کار یا تو نئے منصوبے شروع کر رہے ہیں یا مالی مشکلات کے شکار کارخانوں کو خرید کر انہیں دوبارہ فعال بنا رہے ہیں۔
2025 کی دوسری سہ ماہی میں چین کی جانب سے 5 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری بنگلہ دیش میں آئی، جس میں زیادہ تر سرمایہ ٹیکسٹائل شعبے میں لگایا گیا، ہانڈا انڈسٹریز نے 250 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے جبکہ ایس او ایچ او فیشن گروپ نے ڈھاکا میں دفتر قائم کیا ہے۔
بنگلہ دیش ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز اتھارٹی کے مطابق، 18 چینی کمپنیوں نے یا تو نئے ملبوساتی اور ٹیکسٹائل کارخانوں کے لیے زمین کے لیز معاہدے کیے ہیں یا اپنی پیداوار کا آغاز کر دیا ہے، انہی میں سے چند نمایاں اداروں میں ایس او ایچ او فیشن گروپ شامل ہے۔
ایکسپورٹ زونز سے باہر بھی کم از کم 8 چینی کمپنیاں ملبوسات اور متعلقہ صنعتوں میں سرمایہ کاری کر چکی ہیں، جن میں چونئی (بی ڈی) ٹیکسٹائل، ٹرائسن سوئیٹر اور چائنا بیسٹ ہاؤس ہولڈ پراڈکٹس شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کا غیرجانبدار تحریک کے فیصلوں کے عمل میں اصلاحات پر زور
سرکاری ذرائع کے مطابق، حقیقی تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ بعض سرمایہ کار ایسے لیز معاہدوں کے تحت کام کر رہے ہیں جن کی باضابطہ رجسٹریشن ابھی تک نہیں ہوئی۔
ماہرینِ معیشت اس سرمایہ کاری کو روزگار کے مواقع اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے لحاظ سے مثبت قدم قرار دیتے ہیں، تاہم مقامی صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بنیادی ملبوسات کے بجائے زیادہ ویلیو ایڈڈ مصنوعات اور بیک ورڈ لنکیج انڈسٹریز میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔
بنگلہ دیش گارمنٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے انعام الحق خان کے مطابق، بنگلہ دیش بنیادی ملبوسات میں پہلے ہی خود کفیل ہے۔ ’ہمیں چینی سرمایہ کاری ان شعبوں میں چاہیے جو ہماری سپلائی چین اور جدت کی صلاحیت کو مضبوط بنائیں۔‘
مزید پڑھیں: ’میڈ اِن پاکستان‘ نمائش: پاکستانی مصنوعات کی بنگلہ دیش میں دھوم مچ گئی
ماہرین کے مطابق اگرچہ اس سرمایہ کاری سے ملکی معیشت کو تقویت ملنے کی توقع ہے، مگر گیس کی قلت سمیت انفراسٹرکچر کے مسائل بدستور موجود ہیں، جو نئے ٹیکسٹائل منصوبوں کے لیے چیلنج بن سکتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ غیر فعال فیکٹریوں میں مشترکہ منصوبے نئے صنعتی منصوبوں کے مقابلے میں زیادہ مؤثر اور عملی راستہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسٹریٹجک بنگلہ دیش بنگلہ دیش گارمنٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن ٹیکسٹائل ٹیکنالوجی چائنا بیسٹ ڈیوٹی سرمایہ کار
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹریٹجک بنگلہ دیش ٹیکسٹائل ٹیکنالوجی چائنا بیسٹ ڈیوٹی سرمایہ کار چینی سرمایہ کاری بنگلہ دیش کے مطابق میں چین کے لیے
پڑھیں:
خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، عالمی منڈی میں تشویش کی لہر
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور یمن کے حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر نئی پابندیوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت پہلی مرتبہ مئی کے آخر کے بعد 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعرات کو برینٹ خام تیل کے سودے 6.58 ڈالر یعنی تقریباً 7 فیصد اضافے کے بعد 100.65 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کی ایران پر مزید حملوں کی دھمکی، عالمی منڈی میں خام تیل 5 فیصد مہنگا ہو گیا
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں تیل کی قیمتوں کا رخ اس بات پر منحصر ہوگا کہ حوثی بحیرہ احمر کے راستے باب المندب سے کن بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت دیتے ہیں اور کنہیں نشانہ بناتے ہیں۔
حوثیوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ سعودی عرب سے آنے والے تیل بردار جہازوں کی بحری ناکہ بندی کریں گے اور سعودی عرب، اسرائیل اور امریکا سے وابستہ آئل ٹینکروں کو باب المندب میں نشانہ بنائیں گے۔
The Houthi rebels of Yemen have resumed their attacks on Red Sea shipping, helping push oil prices above $100 a barrel for the first time in two months. Here's what to know https://t.co/z1WTQNtx7z
— Bloomberg (@business) July 24, 2026
یہ آبی گزرگاہ بحیرہ احمر کو بحرِ ہند سے ملاتی ہے اور عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔
جمعرات کو حوثیوں نے 2 سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کا دعویٰ کیا، جبکہ سعودی خبر رساں ایجنسی نے تصدیق کی کہ ان میں سے ایک جہاز میں آگ لگ گئی۔
تاہم دوسرے جہاز کی صورتحال فوری طور پر واضح نہیں ہو سکی۔
مزید پڑھیں: مشرق وسطیٰ میں پھر کشیدگی، عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
بحری تجزیاتی ادارے ونڈورڈ کی سینیئر میری ٹائم انٹیلیجنس تجزیہ کار مشیل بوکمین کے مطابق حوثیوں کی ناکہ بندی کی نوعیت ابھی پوری طرح واضح نہیں، اس لیے ماہرین خاص طور پر اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آیا چینی ملکیت کے آئل ٹینکر باب المندب سے بحفاظت گزر سکتے ہیں یا نہیں۔
ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق 20 جولائی کو سعودی خام تیل لے جانے والے 2 ایسے جہاز باب المندب سے گزرے جن کا عملہ اور منزل چین تھی اور انہیں کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حوثیوں کی کارروائیاں تیل کے بجائے جہازوں کی وابستگی کو مدنظر رکھ کر کی جا رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق حوثیوں نے ماضی میں بھی چین کے ساتھ نسبتاً نرم رویہ اختیار کیا تھا، جبکہ 2023 سے 2025 کے دوران انہوں نے غزہ جنگ کے تناظر میں اسرائیل اور امریکا سے وابستہ تجارتی جہازوں کو متعدد بار نشانہ بنایا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حوثیوں کی حکمت عملی غیر متوقع ہوتی ہے، تاہم وہ بخوبی جانتے ہیں کہ محدود کارروائیاں بھی عالمی تیل کی منڈی کو شدید متاثر کر سکتی ہیں۔
مزید پڑھیں: امریکا کے ایران پر نئے حملے، تیل کی عالمی قیمتیں 6 ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں
سینٹر فار اے نیو امریکن سیکیورٹی سے وابستہ ماہر ریچل زیمبا کا کہنا ہے کہ باب المندب کا موجودہ بحران ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز کے بحران کے بعد عالمی خام تیل کے ذخائر مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکے۔
ان کے مطابق متعدد اہم بحری گزرگاہوں پر بیک وقت کشیدگی عالمی توانائی کی منڈی کے لیے ایک نیا چیلنج ہے۔
ڈیزل کی قیمتوں پر بھی اثراتماہرین کے مطابق خام تیل کے ساتھ ساتھ ڈیزل کی قیمتیں بھی تیزی سے متاثر ہو رہی ہیں۔ امریکا میں پیٹرول کی اوسط قیمت 4.09 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے، جبکہ ڈیزل کی اوسط قیمت 5.34 ڈالر فی گیلن ریکارڈ کی گئی۔
گیس بڈی کے پیٹرولیم تجزیہ کار پیٹرک ڈی ہان کے مطابق موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ ایک سے 2 ہفتوں کے دوران امریکا میں پیٹرول کی قیمت میں مزید 10 سے 20 سینٹ فی گیلن اضافہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیزل کی سپلائی پر دباؤ زیادہ ہے کیونکہ یوکرین کے ڈرون حملوں کے باعث روس کی متعدد آئل ریفائنریاں متاثر ہوئی ہیں، جس کے نتیجے میں روس نے ڈیزل کی برآمدات محدود کر دی ہیں۔
چین کا کردار بھی اہمتجزیہ کاروں کے مطابق عالمی تیل مارکیٹ میں چین کا کردار بھی اہم ہوگا۔ حالیہ مہینوں میں چین نے خام تیل کی درآمدات میں نمایاں کمی کی، جس سے عالمی طلب پر دباؤ کم ہوا اور قیمتوں میں اضافے کی رفتار محدود رہی۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر چین دوبارہ بڑے پیمانے پر خام تیل درآمد کرنا شروع کرتا ہے یا اپنے اسٹریٹجک ذخائر کے بجائے بیرونی خریداری بڑھاتا ہے تو عالمی منڈی میں قیمتوں پر مزید دباؤ آ سکتا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدگی، باب المندب اور آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورتحال، روسی ریفائنریوں کی مشکلات اور امریکا میں آنے والے سمندری طوفانوں کا موسم، یہ تمام عوامل آئندہ ہفتوں میں عالمی تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ کا سبب بن سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آبنائے ہرمز امریکا باب المندب بحری گزرگاہوں پیٹرول چین حوثی خام تیل ڈالر فی گیلن ڈرون ڈیزل روس مشرق وسطیٰ یمن یوکرین