Nawaiwaqt:
2026-06-03@04:43:00 GMT

علاقائی ممالک سی پیک سے فایدہ اُٹھائیں : شہباز شریف 

اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT

علاقائی ممالک سی پیک سے فایدہ اُٹھائیں : شہباز شریف 

اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) پاکستان اور قطر نے دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کیلئے قریبی روابط مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے قطر کے وزیر تجارت و صنعت شیخ فیصل بن ثانی بن فیصل الثانی نے ملاقات کی۔ قطر کے وزیر پاکستان - قطر مشترکہ وزارتی کمیشن (جے ایم سی) کے چھٹے اجلاس کی شریک صدارت کے لیے پاکستان کے دورے پر ہیں۔ وزیراعظم نے پاکستان اور قطر کے مابین تعلقات کی مثبت سمت پر اطمینان کا اظہار کیا جو  مشترکہ عقیدے، اقدار اور باہمی احترام پر مبنی ہیں۔  انہوں نے ایک اہم شراکت دار اور با اثر علاقائی ثالث کے طور پر قطر کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے توانائی، زراعت، غذائی تحفظ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاحت اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے مواقع کو اجاگر کرتے ہوئے دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے تعاون کو بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔  شیخ فیصل بن ثانی بن فیصل الثانی نے قطر کی قیادت کی جانب سے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ اقتصادی روابط کو مزید بڑھانے کے لیے قطر کے عزم کا اعادہ کیا۔  کہا کہ جے ایم سی کے چھٹے اجلاس نے موجودہ تعاون کا جائزہ لینے اور باہمی  مفید شراکت داری کو آگے بڑھانے کے لیے نئے اقدامات کی نشاندہی کرنے میں ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کیا۔ وزیراعظم نے علاقائی اور عالمی مسائل پر قطر کی مسلسل حمایت کو سراہتے ہوئے علاقائی اور کثیرالجہتی فورمز پر تعاون کو مضبوط بنانے کی پاکستان کی خواہش کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے مشترکہ افہام و تفہیم کو ٹھوس نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے قریبی روابط جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ علاوہ ازیں وزیراعظم محمد شہبازشریف نے دوطرفہ اور علاقائی روابط کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ علاقائی روابط  کے فروغ سے  معاشی اور تجارتی  شعبے میں انقلاب آئے گا۔ تجارت، معیشت اور توانائی میں تعاون  نئے دور کا آغاز ہوگا۔ زمانہ قدیم سے ہمارا خطہ معاشی اور تجارتی  راہداری  رہا ہے۔ بڑھتی ہوئی معاشی اہمیت نے اس قدیم گزرگاہ کی اہمیت کو دو چند  کردیا ہے۔ پاکستان سی پیک کے دوسرے مرحلے میں داخل ہورہا ہے۔ ٹرانس افغان ریلوے اور اسلام آباد، تہران، استنبول راہداری  سمیت ریلوے کنیکٹویٹی  پر بھی کام ہورہا ہے۔ ڈیجیٹل دور میں رابطے ڈیٹا، اختراع اور ٹیکنالوجی تک پھیل چکے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے  ریجنل ٹرانسپورٹ منسٹرز کانفرنس کی اختتامی  نشست سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس میں 20 سے زائد ممالک کے مندوبین  نے شرکت کی۔ وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان اور وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیراعظم نے پاکستان کی حکومت اور عوام کی جانب سے، کانفرنس میں دنیا بھر سے آئے  مہمانوں اور مندوبین کا  شکریہ ادا  کرتے ہوئے کہا کہ  پاکستان  کیلئے  اس  نہایت اہم  کانفرنس کی میزبانی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ یہ کانفرنس ایسے وقت میں ہورہی ہے جب دنیا بھر میں ٹرانسپورٹ اور رابطوں کا منظرنامہ   تبدیل ہورہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ صدیوں سے ہماری سرزمین، جو آج پاکستان کہلاتی ہے، رابطوں کا ذریعہ  اور اہم  گزرگاہ رہی ہے۔ ہم نے ان درخشاں ادوار کی کہانیاں سنی ہیں جب یہ خطہ درجنوں ممالک کے درمیان سامان تجارت، ثقافتی روایات اور تخلیقی خیالات کے تبادلے کا ذریعہ تھا۔ قدیم شاہراہِ ریشم سے لے کر آج کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو تک ہمارا خطہ ہمیشہ سے رابطوں اور مواقع  کی سر زمین رہا ہے۔ آج بدلتے ہوئے جغرافیائی سیاسی حالات اور معیشت کی بڑھتی ہوئی اہمیت نے اس قدیم راہداری میں نئی روح پھونک دی۔  بحیرہ  عرب  اور خلیج فارس کے گرم پانیوں سے لے کر قراقرم اور ہمالیہ کے عظیم  پہاڑوں اور وادی سندھ کے وسیع میدانوں  پر مشتمل خطہ  چین، یوریشیائی زمینی راہداری اور مشرق وسطیٰ کے سنگم پر واقع  ہے۔ یہ ایک منفرد  مرکز  ہے جو چین، وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کی معاشی راہداریوں کو ملاتا ہے۔ پاکستان کی طویل ساحلی پٹی بشمول گوادر اور کراچی  کی بندرگاہیں سمندر کو شاہراہ ریشم سے جوڑتی ہیں۔ وزیراعظم نے یاد دلایا کہ سابق وزیراعظم اور میرے قائد محمد نواز شریف ہمیشہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ امن اور ترقی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ جون 2013ء میں  وزیراعظم منتخب ہونے کے فوری  بعد ان کے اولین اقدامات میں سے ایک، چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے معاہدے پر دستخط  تھے جو صدر شی جن پنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا فلیگ شپ منصوبہ ہے۔ سی پیک خطے کے لیے ایک انقلابی  منصوبہ  ثابت ہوا ہے جس نے چین، وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان منڈیوں اور عوام کو جوڑ دیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ  گوادر بندرگاہ کو چین کے صوبہ سنکیانگ سے جوڑ کر اس نے تجارت اور توانائی  کیلئے تعاون کے نئے راستے کھول دیئے ہیں جو رابطے، مواقع اور ثقافتی تبادلے کا ایک اہم ذریعہ بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یہ بتاتے ہوئے فخر محسوس ہو رہا ہے کہ سی پیک کے پہلے مرحلے کی کامیابی کے بعد اب ہم سی پیک  کے دوسرے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں جو بزنس ٹو بزنس شراکت داریوں کو فروغ دینے، چینی کمپنیوں کے لیے پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے اور باہمی خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم کئی ریل رابطہ منصوبوں پر بھی کام کر رہے ہیں جن میں ٹرانس افغان ریلوے اور اسلام آباد، تہران، استنبول راہداری شامل ہے جو سرحد پار تجارت اور رابطوں  کے حوالے سے  انقلاب برپا کردے گا۔ اسی طرح وسط ایشیائی ممالک کے ساتھ ہوائی روابط میں بہتری اور ٹی آئی آر کنونشن (بین الاقوامی  نقل و حمل کا معاہدہ) جیسے فریم ورک بھی ہمارے علاقائی تعاون کو مضبوط بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج  کے ڈیجیٹل دور میں رابطے صرف سڑکوں، ریلوے اور ہوائی راستوں تک محدود نہیں رہے، یہ ڈیٹا، اختراع اور ٹیکنالوجی تک پھیل چکے ہیں۔ پاکستان ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کر رہا ہے تاکہ ہم چوتھے صنعتی انقلاب کی رفتار کے ساتھ چل سکیں۔  پاکستان کے سنگل ونڈو سسٹم جیسے اقدامات تجارتی عمل میں انقلابی تبدیلی لا رہے ہیں، سرکاری رکاوٹوں کو کم کر رہے ہیں اور سرحد پار لین دین کو زیادہ مؤثر بنا رہے ہیں۔ پاکستان تجارت، توانائی کے تبادلے، اور سرحد پار نقل و حمل کے نیٹ ورکس کو فروغ دینے کے لیے عالمی سطح پر ہر موزوں فورم پر رابطوں کو فعال بنا رہا ہے۔ اس حقیقت کو بار بار دہرانے کی ضرورت ہے کہ تجارت اور اقتصادی تعاون میں اشتراک، سب کے لیے  یکساں فائدہ مند  اور تمام فریقوں کے لیے بھرپور ثمرات کا حامل ہے۔ یہ ہمارے امن کے مشترکہ مفاد  اور خطے میں ترقی کی کوششوں کو تقویت دے گا۔ انہوں نے  شرکاء کو دعوت دی کہ  ہم سب مل کر تعاون کے بیج بوئیں تاکہ ہماری آنے والی نسلیں ترقی اور خوشحالی کے پھل حاصل کر سکیں۔ اس موقع پر وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا کہ ریجنل ٹرانسپورٹ منسٹرز کانفرنس علاقائی  روابط بڑھانے کیلئے ہمارے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ دریں اثناء وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پولیو کے انسداد کیلئے پولیو ورکرز کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی محنت اور حکومتی اقدامات کی بدولت جلد پاکستان سے پولیو کا خاتمہ ہو گا۔ وہ جمعہ کو انسداد پولیو کے عالمی دن کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء تارڑ، وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسداد پولیو عائشہ رضا فاروق، انسداد پولیو کیلئے معاونت فراہم کرنے والے اداروں کے حکام اور ملک بھر سے منتخب پولیو ورکرز بھی موجودتھے۔ دریں اثناء شاہین چوک انڈر پاس اسلام آباد منصوبے کے سنگ بنیاد کی تقریب ہوئی۔ وزیراعظم شہبازشریف نے تقریب میں خصوصی شرکت کی۔ وزیراعظم شہباز شریف کو شاہین چوک انڈر پاس منصوبے پر بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم نے افتتاحی تقریب سے خطاب میں کہا کہ شاہین چوک انڈر پاس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا ہے۔ ٹریفک کا دباؤ کم کرنے کیلئے مختلف منصوبے شروع کئے جا رہے ہیں۔ وزیراعظم نے وزیر داخلہ محسن نقوی، چیئرمین سی ڈی اے و دیگر افسران کو مبارکباد دی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وزیر داخلہ اور ان کی ٹیم شبانہ روز محنت کر رہی ہے۔ اسلام آباد کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کیا جا رہا ہے۔ ایسی سی او کانفرنس کی تیاریوں سے متعلق ہوٹلز اور رہائشی منصوبے بھی ضروری ہیں۔ قبل ازیں وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ وزیراعظم سے درخواست کریں گے کہ دسمبر میں ڈی چوک فلائی اوور کا افتتاح کریں۔ تین چار ماہ میں اسلام آباد کے منصوبے مکمل کریں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: سرمایہ کاری وفاقی وزیر شہباز شریف تجارت اور کرتے ہوئے نے کہا کہ انہوں نے رہے ہیں رہا ہے سی پیک قطر کے کے لیے

پڑھیں:

پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ

پاکستان اور اٹلی نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بناتے ہوئے سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس معاہدے کو دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں ایک انتہائی اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔

معاہدے پر دستخط کی تقریب اور اہم ملاقات

اٹلی کے دارلحکومت روم میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران اٹلی میں تعینات پاکستانی سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا نے اس اہم معاہدے پر دستخط کیے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان اٹلی سے دفاعی تعاون کے فروغ اور باہمی تجربے سے مستفید ہونا چاہتا ہے، وزیردفاع

دستخطی تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ایک تفصیلی دو طرفہ ملاقات بھی ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی صورتحال اور بین الاقوامی فورمز، خصوصاً اقوام متحدہ اور یورپی یونین میں تعاون کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

باہمی اعتماد اور سفارتی وفود کا تبادلہ

سرکاری بیان کے مطابق دونوں فریقین نے وسعت اور مثبت سمت پر گامزن پاک، اٹلی تعلقات پراطمینان کا اظہار کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیا معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان موجود گہرے باہمی اعتماد، لازوال دوستی اور قریبی تعاون کی واضح علامت ہے۔ اس اقدام سے سرکاری اور سفارتی وفود کے تبادلوں میں حائل رکاوٹیں دور ہوں گی اور عوامی و حکومتی سطح پر روابط کو مزید فروغ ملے گا۔

پاک، اٹلی تعلقات کا تاریخی فریم ورک

پاکستان اور اٹلی کے درمیان طویل عرصے سے مختلف شعبوں میں قریبی تعاون جاری ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کے مابین 15 سرکاری معاہدے نافذ العمل ہیں، جو سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی تعلیم اور انسدادِ منشیات جیسے شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (ایم او یوز) بھی فعال ہیں۔

مزید پڑھیں:پاکستانی طالب علم اٹلی میں مفت اسکالرشپ اور لاکھوں روپے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

دو طرفہ تعلقات کے اہم فریم ورک میں 2009 کا دفاعی تعاون معاہدہ، 2013 میں قائم کیا گیا اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان اور 2005 میں تشکیل دی گئی مشترکہ اقتصادی کمیشن شامل ہیں۔

اس سے قبل 1997 کا سرمایہ کاری تحفظ معاہدہ، 1983 کا دوہری شہریت کا معاہدہ اور 1972 کا حوالگیِ مجرمان معاہدہ بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم سنگِ میل سمجھے جاتے ہیں۔

پاکستانیوں کے لیے ’لیبر مائیگریشن‘ معاہدہ اور ملازمتیں

رپورٹ کے مطابق 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان ’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘ کی ایک اہم ترین یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔ یہ کسی بھی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باضابطہ لیبر معاہدہ تھا، جس کے تحت پاکستانی ہنر مندوں کے لیے اٹلی میں 10,500 مخصوص ملازمتوں کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں، جو پاکستانی افرادی قوت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔

سال 2026 کے اختتام پر اہم مذاکرات کی تیاری

ملاقات کے دوران سفیر علی جاوید نے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان ’دو طرفہ سیاسی مشاورت‘ کے ساتویں دور کا انعقاد کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سال 2026 کی آخری سہ ماہی میں ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے اسلام آباد میں اٹلی کے نئے تعمیر شدہ سفارت خانے کے جلد افتتاح کی خواہش کا بھی اظہار کیا، جو کہ دنیا بھر میں اٹلی کا سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا۔ یہ تمام اقدامات مستقبل میں دونوں ممالک کو معاشی، سفارتی اور عوامی سطح پر ایک دوسرے کے مزید قریب لے آئیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اٹلی اہم مذاکرات پاسپورٹ پاکستان علی جاوید لیبر مائیگریشن معاہدہ ملازمین

متعلقہ مضامین

  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ