پنجاب میں فضائی آلودگی شدت اختیار کرنے لگی، کھلی فضا میں سانس لینا صحت کیلئے خطرہ بن گیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
لاہور سمیت پنجاب کے وسطی اور بالائی علاقے بدستور شدید فضائی آلودگی کی لپیٹ میں ہیں، جس کے باعث کھلی فضا میں سانس لینا شہریوں کے لیے خطرناک بنتا جا رہا ہے۔
محکمۂ موسمیات اور ماحولیاتی ماہرین کے مطابق لاہور میں بدھ کی صبح راوی روڈ کے علاقے میں ایئر کوالٹی انڈیکس خطرناک حد تک بڑھ کر 810 تک پہنچ گیا، جب کہ شہر کا اوسط اے کیو آئی 367 پارٹیکولیٹ میٹرز ریکارڈ کیا گیا۔ دیگر شہروں میں بھی صورتحال تشویشناک ہے — گوجرانوالا میں ایئر کوالٹی انڈیکس 627 اور فیصل آباد میں 434 تک جا پہنچا۔
ماہرینِ صحت نے شہریوں کو سختی سے ماسک استعمال کرنے اور غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کا مشورہ دیا ہے۔ محکمۂ تحفظِ ماحولیات کے ترجمان کے مطابق اسموگ میں اضافے کی بنیادی وجوہات میں ہوا کے کم دباؤ والے زونز اور بھارتی پنجاب سے آنے والی آلودہ ہوائیں شامل ہیں۔ ان کے مطابق سرحد پار فصلوں کی باقیات جلانے سے پیدا ہونے والا دھواں لاہور، قصور، شیخوپورہ اور گوجرانوالہ سمیت وسطی پنجاب کے بیشتر اضلاع میں داخل ہو رہا ہے۔
محکمہ کے مطابق رات اور صبح کے اوقات میں فضا میں نمی کی مقدار 95 سے 100 فیصد تک بڑھنے سے آلودگی زمین کے قریب ٹھہر جاتی ہے، جس سے شہریوں کو سانس لینے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔ زرعی علاقوں میں کسانوں اور نمبرداروں کو آگاہی دی جا رہی ہے کہ وہ دھان کی باقیات نہ جلائیں۔
دوسری جانب، لاہور کے زیادہ آلودہ علاقوں میں اسموگ گنز کے ذریعے مصنوعی بارش برسائی جا رہی ہے تاکہ فضائی آلودگی میں فوری کمی لائی جا سکے۔ حکام کے مطابق آئندہ 48 گھنٹوں میں فضا میں بہتری کا امکان ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کے مطابق
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔