دہلی میں فضائی آلودگی پر سروے میں چونکا دینے والے انکشافات
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
44 فیصد گھرانے باہر نکلنے سے گریز کررہے ہیں اور قوت مدافعت بڑھانے والی غذاؤں کا استعمال کررہے ہیں، تقریباً ایک تہائی افراد آلودگی سے متعلق بیماریوں کیلئے ڈاکٹروں سے رجوع کررہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ دیوالی کے بعد دہلی کی ہوا انتہائی زہریلی ہوچکی ہے۔ سی پی سی بی کے اعداد و شمار کے مطابق PM2.5 کی سطح پانچ سال کی بلند ترین سطح 488 مائیکرو گرام فی مکعب میٹر تک پہنچ گئی ہے۔ یہ دیوالی سے پہلے کی سطح سے تین گنا زیادہ ہے۔ 20 اکتوبر دیوالی کی رات آلودگی کی سب سے زیادہ سطح ریکارڈ کی گئی۔ لوک سرکلس کے سروے کے مطابق دہلی-این سی آر کے تین چوتھائی گھروں میں لوگ آلودہ ہوا کے مضر اثرات کا شکار ہیں۔ گلے میں خراش، کھانسی اور آنکھوں میں جلن عام شکایات ہیں۔ 42 فیصد گھروں میں ایک یا زیادہ افراد گلے کی خراش یا کھانسی کا شکار ہیں۔ 25 فیصد کو آنکھوں میں جلن، سر درد یا نیند میں دشواری کا سامنا ہے۔ 17 فیصد سانس لینے میں دشواری یا دمہ کی شدت کی شکایت کررہے ہیں۔
وہیں 44 فیصد گھرانے باہر نکلنے سے گریز کر رہے ہیں اور قوت مدافعت بڑھانے والی غذاؤں کا استعمال کر رہے ہیں۔ تقریباً ایک تہائی افراد آلودگی سے متعلق بیماریوں کے لئے ڈاکٹروں سے رجوع کر رہے ہیں۔ 23 فیصد رہائشی اس ہفتے یا اگلے ہفتے شہر سے باہر جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ 15 فیصد گھروں میں رہنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں، جبکہ 31 فیصد قوت مدافعت بڑھانے والی چیزیں استعمال کر رہے ہیں اور ایئر پیوریفائر لگا رہے ہیں۔ اسی طرح 8 فیصد لوگ ماسک پہن کر اپنی معمول کی سرگرمیاں جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ تاہم 23 فیصد کا کہنا ہے کہ وہ کچھ نہیں کریں گے اور بس اس کے ساتھ جئیں گے۔ عالمی ادارہ صحت کی سفارش کردہ سطح سے 24 گنا زیادہ آلودگی کے باوجود، حکومتی اقدامات ناکافی نظر آتے ہیں۔ گراپ (GRAP) کے تحت سخت اقدامات، جیسے سموگ گن اور رات کی صفائی ضروری ہیں۔ سروے نے اینٹی پولوشن اقدامات کے سخت نفاذ کا مطالبہ کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کر رہے ہیں کررہے ہیں
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔