ڈینگی نے شہریوں کو اذیت میں مبتلا کردیا ہے،چیمبر آف کامرس
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے صدر محمد سلیم میمن نے حیدرآباد میں ڈینگی سے بڑھتی ہوئی اموات پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت سندھ اور متعلقہ اداروں کی غفلت نے پورے شہر کو اذیت ناک صورتحال میں مبتلا کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیمبر نے 8 اکتوبر کو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو ایک تفصیلی خط لکھا تھا جس میں حیدرآباد میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کرنے، اسپرے مہم شروع کرنے اور مفت ٹیسٹ کی سہولت فراہم کرنے کی سفارشات پیش کی گئی تھیں،جس کی نقول وزیرِ صحت، چیف سیکریٹری، سیکریٹری صحت، کمشنر، میئر اور ڈپٹی کمشنر حیدرآباد کو بھی ارسال کی گئی تھیں، مگر افسوس کہ آج 26 اکتوبر تک عملی اقدامات میں کمی کے باعث صورتحال انسانی المیے کی شکل اختیار کر چکی ہے۔صدر چیمبر سلیم میمن نے کہا کہ آج حیدرآباد میں ہر گھر میں ڈینگی کا مریض موجود ہے، روز جنازے اٹھ رہے ہیں، اور اسپتال مریضوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وباء اب اس حد تک جان لیوا ہو گئی ہے کہ معصوم بچے، ماؤں کے لعل، اور گھروں کے سہاگ اس بیماری کی نذر ہو رہے ہیں، مگر متعلقہ محکمے اب بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر حیدرآباد میں کیمپ آفس قائم کریں اور خود صورتِ حال کی نگرانی کریں، کیونکہ یہ اگلے 20 دن فیصلہ کن ہیں۔ اگر ابھی بھی اقدامات نہ کیے گئے تو نہ صرف وباء مزید پھیلے گی بلکہ شہریوں کا اعتماد بھی مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔صدر چیمبر نے کہا کہ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ، لوکل گورنمنٹ، اور ضلعی انتظامیہ کے وہ افسران جن کی غفلت اور نااہلی کی وجہ سے آج حیدرآباد کے شہری اپنی زندگیاں بچانے پر مجبور ہیں۔ان کے خلاف فوری انکوائری کر کے قانونی کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ کوئی افسر عوامی صحت کے معاملے میں غفلت نہ برت سکے۔انہوں نے کہا کہ صرف اسپرے مہمات یا اعلانات کافی نہیں، بلکہ انٹر نیشنل معیار کے ڈینگی اسپرے روزانہ کی بنیادوں پر کیے جائیںاور اسکی تمام ایس او پیز پر سختی سے عمل کیاجائے اسکے ساتھ حکومت کو ہنگامی بنیادوں پر شہر بھر میں موبائل میڈیکل کیمپس قائم کرنے چاہئیں تاکہ فوری علاج ممکن ہو سکے۔صدر چیمبر سلیم میمن نے زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ صرف سندھ کا نہیں بلکہ انسانی جانوں کا مسئلہ ہے، لہٰذا وفاقی حکومت کو بھی مداخلت کرنی چاہیے۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کو فوری طور پر دیکھیں، تاکہ مشترکہ کوششوں سے انسانی جانیں بچائی جا سکیں۔انہوں نے کہا کہ چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ انڈسٹری عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور حکومتِ سندھ سے پُرزور مطالبہ کرتا ہے کہ وہ حیدرآباد میں فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کرے، اسپرے مہمات، نکاسی آب، اور علاج معالجے کے نظام کو جنگی بنیادوں پر بحال کرے، اور ان تمام اداروں کو کیفر کردار تک پہنچائے جن کی کوتاہیوں نے اس شہر کو قبرستان میں تبدیل کر دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔