Jasarat News:
2026-06-03@00:00:34 GMT

آزادی صحافت کے ہیرو

اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

صحافت محض پیشہ نہیں، یہ ضمیر کی صدا اور عوام کی امانت ہے جو سچائی کے چراغ کو جلائے رکھے، وہی اصل صحافی ہے۔ اسی جدوجہد میں اْس کا وقار، اْس کا ایمان، اور اْس کی پہچان چھپی ہے۔ ’’سچ لکھنے والا ہمیشہ طاقت کے مراکز کے نشانے پر ہوتا ہے‘‘۔ وہ اکثر طاقتور حلقوں کی ناراضی مول لیتا ہے۔ دنیا میں سچ کہنا ہمیشہ آسان نہیں رہا۔ لفظ کبھی تلوار سے زیادہ خطرناک ہو جاتا ہے، اور وہ لوگ جو سچ کو حرفوں میں ڈھالتے ہیں، اکثر خود تاریخ کے صفحوں پر خون کے داغ بن کر رہ جاتے ہیں۔ رواں برس 2025ء میں آزادیٔ صحافت کی تاریخ نے ایک نیا باب رقم کیا ہے، جب دو عالمی اداروں انٹرنیشنل پریس انسٹیٹیوٹ (آئی پی آئی) اور انٹرنیشنل میڈیا سپورٹ (آئی ایم ایس) نے سات بہادر صحافیوں کو ’’ورلڈ پریس فریڈم ہیروز‘‘ کے عالمی اعزاز سے نوازا۔ ان میں وہ فلسطینی خاتون بھی شامل ہیں جو غزہ کی تباہ شدہ گلیوں میں اپنے کیمرے کے ساتھ شہید ہوئیں۔ یہ اعزاز اْن صحافیوں کو دیا جاتا ہے جو شدید خطرات کے باوجود سچ بولنے سے باز نہیں آتے۔ اس سال کے ایوارڈ یافتگان کا تعلق جارجیا، امریکا، غزہ، پیرو، ہانگ کانگ، یوکرین اور ایتھوپیا سے ہے۔ ان سب نے ظلم، سنسرشپ، قید اور دھمکیوں کے باوجود صحافتی اصولوں کی حفاظت کی اور عوام کے حقِ جاننے کو مقدم رکھا۔ سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آئی پی آئی اور آئی ایم ایس کون سے ادارے ہیں اور ان کی حیثیت کیا ہے۔

انٹرنیشنل پریس انسٹیٹیوٹ (آئی پی آئی) کا قیام 1950ء میں صحافیوں اور مدیران کے ایک عالمی اجتماع کے نتیجے میں ہوا۔ اس کا صدر دفتر آسٹریا کے شہر ویانا میں ہے۔ آئی پی آئی آزادیٔ اظہار، آزاد میڈیا اور صحافیوں کے تحفظ کے لیے اقوامِ متحدہ کے اصولوں کے مطابق کام کرتا ہے۔ یہ ادارہ ہر سال مختلف ممالک میں صحافت پر ہونے والے دباؤ، قتل، قید، سنسرشپ اور جبر کی نگرانی کرتا ہے، اور انہی بنیادوں پر ان صحافیوں کا انتخاب کرتا ہے جنہوں نے جرأت کی مثال قائم کی۔ آئی پی آئی کے ’’ورلڈ پریس فریڈم ہیروز‘‘ ایوارڈ کو صحافت کی دنیا میں سب سے باوقار تمغہ مانا جاتا ہے، جو 1996ء سے ہر سال دیا جا رہا ہے۔ دوسرا ادارہ انٹرنیشنل میڈیا سپورٹ (آئی ایم ایس) ہے، جس کا صدر دفتر کوپن ہیگن (ڈنمارک) میں ہے۔ آئی ایم ایس 2001ء میں قائم ہوا اور اس کا بنیادی مقصد دنیا کے اْن خطوں میں صحافت کا تحفظ کرنا ہے جہاں جنگ، آفات یا سیاسی جبر کے باعث میڈیا خطرے میں ہو۔ آئی ایم ایس صحافیوں کی تربیت، قانونی معاونت، اور آن لائن و فزیکل سیکورٹی پروگرام چلاتا ہے۔ یہ ادارہ آزادیٔ اظہار کو انسانی حق مانتے ہوئے میڈیا اداروں کے لیے پالیسی سطح پر اصلاحات کی حمایت کرتا ہے۔ 2020ء کے بعد سے آئی ایم ایس نے آئی پی آئی کے ساتھ مل کر یہ عالمی اعزاز مشترکہ طور پر دینا شروع کیا، تاکہ آزادیِ صحافت کے تحفظ کی جدوجہد کو عالمی سطح پر مضبوط کیا جا سکے۔ اب اگر اس سال کے سات ہیروز پر نظر ڈالی جائے تو ہر نام اپنے آپ میں ایک داستان ہے۔

جارجیا سے مزیا اماگلوبیلی نے روسی دباؤ اور داخلی پابندیوں کے باوجود آزاد میڈیا کو زندہ رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وہ خواتین صحافیوں کے لیے جرأت اور تحفظ کی علامت بن چکی ہیں۔ امریکا سے مارٹن بارون نے واشنگٹن پوسٹ اور بوسٹن گلوب کے ادارتی سربراہ کے طور پر تحقیقاتی صحافت کی نئی بنیاد رکھی۔ ان کے دور میں امریکی سیاست اور حکومت میں شفافیت کے کئی نئے در وا ہوئے۔

غزہ کی مریم ابو دقہ وہ نام ہے جس نے دنیا کو دکھا دیا کہ سچائی کے راستے میں بمباری بھی رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ وہ فلسطینی فوٹو جرنلسٹ تھیں، جو پناہ گزین کیمپوں میں انسانی المیوں کو عالمی سطح پر اجاگر کر رہی تھیں۔ اسرائیلی حملے کے دوران وہ رپورٹنگ کر رہی تھیں جب ایک فضائی حملے نے ان کی جان لے لی۔ ان کی شہادت نے دنیا بھر میں آزاد صحافت کے لیے ایک نئے جذبے کو جنم دیا۔ آئی پی آئی اور آئی ایم ایس نے انہیں بعد از مرگ (Posthumously) یہ اعزاز دیا۔ لفظ (پوستھیومَسلی) ایک انگریزی اصطلاح ہے،جس کا مطلب ہے ’’وفات کے بعد‘‘ یا ’’مرنے کے بعد‘‘۔یعنی جب کسی شخص کو ایوارڈ، اعزاز، یا درجہ اْس کے انتقال کے بعد دیا جائے تو کہا جاتا ہے کہ یہ اعزاز اسے دیا کیا گیا۔ پیرو سے گستاوو گوریتی، نے منشیات مافیا اور بدعنوان سیاست دانوں کے خلاف اپنی قلمی جنگ سے حکومتوں کو ہلا دیا۔ کئی بار قید ہوئے، لیکن قلم نہیں چھوڑا۔ ہانگ کانگ کے جمی لائی، جو ’’ایپل ڈیلی‘‘ کے بانی ہیں، چین کے دباؤ میں آکر بھی اپنی آزادیِ رائے پر قائم رہے۔ انہیں جیل میں ڈالا گیا، اخبار بند ہوا، لیکن وہ آج بھی دنیا بھر کے صحافیوں کے لیے مثال بنے ہوئے ہیں۔ یوکرین کی کٹوریا روشچینا نے روسی حملوں کے دوران محاذِ جنگ سے رپورٹنگ کی۔ گرفتار ہوئیں، تشدد کا نشانہ بنیں، مگر جنگ کے بیچ بھی سچ کی خبریں دنیا تک پہنچاتی رہیں۔ ایتھوپیا کے تسفالم ولدیس نے ایک ایسے نظام میں آزاد میڈیا کے حق میں آواز بلند کی جہاں اظہارِ رائے کو جرم سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے میڈیا آزادی کے قوانین کے لیے مہم چلائی، جس کے نتیجے میں کئی نئے آزاد ادارے قائم ہوئے۔

یہ سب وہ نام ہیں جنہوں نے اپنے اپنے ملک میں خطرے کے باوجود وہی کیا جس کے لیے صحافت وجود میں آئی سچ بولنا، چاہے اس کی قیمت جان ہی کیوں نہ ہو۔ آئی پی آئی اور آئی ایم ایس کے مطابق ان ہیروز کا انتخاب اْن کے ’’اخلاقی استقلال، عوامی خدمت کے جذبے، اور آزادیٔ اظہار کے غیر متزلزل یقین‘‘ کی بنیاد پر کیا گیا۔

ان اداروں کی مشترکہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ دنیا بھر میں پچھلے دو سال میں 150 سے زائد صحافی قتل یا لاپتا ہوئے، جبکہ 1200 سے زیادہ کو قید یا مقدمات کا سامنا ہے۔ ان اعداد و شمار نے یہ ثابت کیا ہے کہ آزادیٔ صحافت اب صرف جمہوری اصول نہیں بلکہ عالمی انسانی حق بن چکی ہے۔

غزہ میں گزشتہ سال اسرائیلی حملوں کے دوران 70 سے زیادہ فلسطینی صحافی شہید ہوئے، جن میں خواتین کی نمایاں تعداد شامل تھی۔ مریم ابو دقہ ان میں ایک چمکتا ہوا نام تھیں، جنہوں نے دنیا کو دکھایا کہ کیمرہ بندوق سے زیادہ طاقتور ہو سکتا ہے۔ ان کی قربانی نے ورلڈ پریس فریڈم ہیروز 2025ء کو ایک تاریخی رنگ دیا۔ انٹرنیشنل پریس انسٹیٹیوٹ اور انٹرنیشنل میڈیا سپورٹ کی یہ کوشش انسانیت کے لیے امید کا پیغام ہے کہ اگرچہ جبر بڑھ رہا ہے، مگر سچ لکھنے والے اب بھی زندہ ہیں۔ضرورت اب اس امر کی ہے کہ عالمی برادری صرف خراجِ تحسین پر اکتفا نہ کرے بلکہ عملی اقدامات کرے۔ اقوامِ متحدہ کو چاہیے کہ وہ عالمی سطح پر ایک ’’انٹرنیشنل پروٹیکشن چارٹر فار جرنلسٹس‘‘ منظور کرے، جس کے تحت جنگی علاقوں میں صحافیوں کے خلاف کسی بھی کارروائی کو جنگی جرم قرار دیا جائے۔ ساتھ ہی ہر ملک میں ’’پریس فریڈم کمیشن‘‘ قائم کیا جائے جو میڈیا اہلکاروں کی سلامتی، قانونی مدد اور نفسیاتی بحالی کے لیے ذمے دار ہو۔

پروفیسر شاداب احمد صدیقی سیف اللہ

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ا ئی پی ا ئی ا ا ئی ایم ایس پریس فریڈم صحافیوں کے کے باوجود سے زیادہ میڈیا ا کرتا ہے جاتا ہے کے بعد کے لیے اور ان

پڑھیں:

مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل

معروف پاکستانی اداکارہ مومنہ اقبال اور ان کے شوہر حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔ حال ہی میں سادگی کے ساتھ نکاح کرنے والے اس جوڑے نے شادی کی باقاعدہ تقریبات سے قبل اہلِ خانہ کی موجودگی میں دعائے خیر کا اہتمام کیا، جس میں دونوں خوش اور پُرجوش دکھائی دیے۔

پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ مومنہ اقبال کی زندگی کا نیا سفر خوشیوں کے ساتھ جاری ہے۔ چند روز قبل مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب نے ایک سادہ اور نجی خاندانی تقریب میں اپنے نکاح کی تصدیق کی تھی، جس کے بعد اب ان کی دعائے خیر کی تقریب کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by @wbs.unfolded

مومنہ اقبال گزشتہ کچھ عرصے سے اپنی ذاتی زندگی کے باعث خبروں میں رہی ہیں۔ شادی کی تیاریوں کے دوران ان کے سابق دوست ثاقب چدھڑ کی جانب سے مبینہ ہراسانی کے واقعات سامنے آئے تھے، جن کے بارے میں کہا گیا کہ وہ شادی رکوانے کی کوشش کر رہے تھے۔ بعد ازاں معاملہ پولیس تک پہنچا اور اب یہ کیس عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔

اس تمام صورتحال کے باوجود مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب نے اپنی نئی زندگی کا آغاز خوش اسلوبی سے کیا اور حال ہی میں نجی تقریب میں نکاح کر لیا۔

اتوار کے روز جوڑے نے دعائے خیر کی ایک محدود اور خاندانی تقریب کا اہتمام کیا، جبکہ شادی کی دیگر تقریبات کا باقاعدہ آغاز پیر سے متوقع ہے۔

دعائے خیر کی تقریب میں مومنہ اقبال سنہری اور ٹی پنک (ہلکے گلابی) رنگ کے خوبصورت غرارے میں ملبوس نظر آئیں، جس پر نفیس سنہری دبکا ورک کیا گیا تھا۔ ان کا روایتی لباس اور دلکش انداز حاضرین کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔ دوسری جانب حمزہ حبیب نے ہلکے ٹی پنک رنگ کے کُرتا شلوار کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کیا، جو ان کی شخصیت پر خوب جچ رہا تھا۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Momina Iqbal (@momina.iqbal)

تقریب کے دوران دونوں انتہائی خوشگوار اور پُرجوش موڈ میں دکھائی دیے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر اور ویڈیوز میں جوڑے کو اہلِ خانہ اور قریبی عزیزوں کے ساتھ خوشی کے لمحات گزارتے دیکھا جا سکتا ہے۔

مومنہ اقبال کا میک اپ معروف بیوٹی اسٹوڈیو ’ذکیہ رقیہ سیلون‘ کی جانب سے کیا گیا، جس نے ان کی دلکش شخصیت کو مزید نکھار دیا۔

دعائے خیر کی تقریب کی تصاویر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے خوب پسند کی جا رہی ہیں اور مداح نومولود جوڑے کے لیے نیک تمناؤں اور دعاؤں کا اظہار کر رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اداکارہ مومنہ اقبال انٹرٹینمنٹ

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل