امریکا اور چین کے درمیان تجارتی مذاکرات میں پیش رفت
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
چین اور امریکا کے درمیان ہونے مذاکرات میں مثبت پیشرفت کے بعد دونوں ممالک کے سربراہوں کے درمیان اہم معاہدے پر دستخط کردیں گے۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق ملائیشیا میں میں ہونے والے مذاکرات میں چین اور امریکا کے درمیان 2019ء سے جاری تجارتی جنگ کی شدت میں کمی پر اتفاق ہوگیا ہے، جس کے بعد خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ دونوں ممالک کے صدور کے درمیان ہونے والی ملاقات میں باضابطہ معاہدے پر دستخط ہوجائیں گے۔
مالائشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں آسیان ممالک سربراہی اجلاس کی سائیڈلائنز پر ہونے والے مذاکرات میں ہونے والی اہم پش رفت کی امریکی اور چینی حکام نے تصدیق کی ہے۔
اب جمعرات کو جنوبی کورین شہر گیوگنجو ہونے والی چینی صدر شی جن پنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات کو عالمی تجارت میں اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسینٹ نے میڈیا نمائندوں کو آگاہ کیا کہ کوالالپمور میں ہونے والے مذاکرات میں فریم ورک کے ساتھ اگلی ملاقات جنوبی کوریا میں ہوگی۔
اسکاٹ بیسینٹ نے مزید بتایا کہ انہیں امید ہے کہ دونوں جانب فریق ایک معاہدے پر پہنچ جائیں گے، جس میں زیر زمین نایاب معدنیات پر کنٹرول کو موخر کرکے 100 فیصد ٹیرف سے بچا جاسکے گا۔
دوسری جانب چینی نائب وزیراعظم لیفنگ جو مزاکرات میں شامل تھے انہوں نے کہا ہے کہ معاہدے کے حوالے سے بنیادہ نکات پر اتفاق ہوچکا ہے، اب معاملات داخلی منظوری کے عمل سے گزر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مذاکرات میں کے درمیان
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔