میٹااےائی استعمال کرنے والے پاکستانیوں کے لیے بڑی خوشخبری
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
میٹا نے وزارتِ آئی ٹی کے اشتراک سے پاکستان میں میٹا اے آئی اردو میں متعارف کروا دیا، جس کے بعد صارفین اب انگریزی کے ساتھ اردو میں بھی بات چیت کر سکیں گے۔اسلام آباد میں منعقدہ تقریب “Future in Focus: AI and Innovation” میں میٹا نے مصنوعی ذہانت کی تعلیم، سرکاری ڈیجیٹل تبدیلی، اور AI Literacy Program کے آغاز کا اعلان کیا، جس کے تحت 350 یونیورسٹی اساتذہ کو اے آئی کی بنیادی تربیت دی جائے گی۔اسی موقع پر Government Digital Transformation Xperience (GDTX) 2025 پروگرام بھی شروع کیا گیا تاکہ سرکاری و نجی شعبے میں جدید ڈیجیٹل حل متعارف کرائے جا سکیں۔وفاقی وزیر شزہ فاطمہ نے کہا کہ اردو میں میٹا اے آئی کی شمولیت ایک سنگِ میل ہے جو ہر شہری کے لیے ٹیکنالوجی کو قابلِ رسائی بنائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔