علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی علامہ شہنشاہ نقوی کو سربراہ جعفریہ الائنس منتخب ہونے پر مبارکباد
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
سربراہ ایم ڈبلیو ایم کا کہنا تھا کہ دعا ہے کہ خدا وند متعال آپ کو ملت جعفریہ کی خدمت، اتحاد امت کے فروغ اور وطنِ عزیز پاکستان میں امن و اخوت کے قیام کے لیے مزید ہمت، توفیق اور کامیابیاں عطا فرمائے۔ اسلام ٹائمز۔ چیئرمین مجلس وحدت مسلمین پاکستان سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی کو جعفریہ الائنس کا سربراہ منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کی ہے۔ اپنے ایک تہنیتی پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی کو جعفریہ الائنس پاکستان کا صدر منتخب ہونے پر دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں، دعا ہے کہ خدا وند متعال آپ کو ملت جعفریہ کی خدمت، اتحاد امت کے فروغ اور وطنِ عزیز پاکستان میں امن و اخوت کے قیام کے لیے مزید ہمت، توفیق اور کامیابیاں عطا فرمائے، آمین۔ امید ہے کہ آپ کی سربراہی میں جعفریہ الائنس پاکستان ملت کی مضبوط آواز اور قومی وحدت کا مظہر بنے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جعفریہ الائنس
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔