پاکستان کے افغان طالبان سے مذاکرات کا تیسرا بے ثمر دور
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
استنبول میں پاکستان افغان طالبان مزاکرات کا تیسرا روز بھی کسی نتیجہ کے بغیر تمام ہوا۔ مذاکراتی نشست کو 11 گھنٹے سے زائد وقت گزر گیا. سفارتی ذرائع کےمطابق مذکرات میں رکاوٹیں پیدا ہو چکی ہیں جس کے باعث کسی مثبت پیش رفت کے امکانات انتہائی کم ہو چکے ہیں۔
پاکستان افغان طالبان کے درمیان تیسرے روز مذاکرات کو 10 گھنٹے سے زائد ہو گئے تو سفارتی ذرائع نے بتایا کہ پاکستان اور طالبان حکومت کے درمیان مذاکرات میں رکاوٹیں پیدا ہو گئی ہیں۔
بھارتی سٹار کرکٹرICUمیں داخل، وجہ کیا بنی؟
طالبان حکومت کسی بات پر تحریری طور پر اتفاق کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ سفارتی ذرائع بتا رہے ہیں کہ مذاکرات میں رکاوٹ کے بعد، کسی مثبت نتیجے کی امیدیں انتہائی معدوم ہوگئی ہیں۔
طالبان حکومت پاکستان کے جائز تحفظات کو سمجھتی ہے لیکن تاہم قندھار اور کابل کے بعض طاقتور لوگ دہشت گرد نیٹ ورکس کی حمایت چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
مذاکرات کے میزبان اور ثالث بھی پاکستان کی جائز سیکیورٹی تحفطات کو سمجھتے ہیں۔ وہ پاکستان کی جائز سیکیورٹی تحفطات سے متفق ہیں۔
پاکستان کے تمام ائیرپورٹس کو کیش لیس بنانے کا فیصلہ
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی(bushra bibi) کے درمیان ہفتہ وار ملاقات کرائی گئی، جو تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی۔
جیل ذرائع کے مطابق ملاقات جیل کے کانفرنس روم میں ہوئی جہاں دونوں نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات جیل حکام کی نگرانی میں مقررہ ضابطوں کے مطابق کرائی گئی۔
دوسری جانب ملاقات کے دن کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے کسی وکیل یا خاندان کے دیگر افراد کی ملاقات نہ ہو سکی۔ جیل ذرائع کے مطابق معمول کی ملاقاتوں کے حوالے سے سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات برقرار رہے۔
ادھر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے نامزد نمائندے اور صوبائی حکومت کے بعض عہدیدار بھی اظہارِ یکجہتی کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے، تاہم انہیں بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔
مزید پڑھیں:فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
اسی دوران بانی پی ٹی آئی کی بہنیں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی اڈیالہ جیل پہنچیں، تاہم پولیس نے انہیں فیکٹری ناکے سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ ذرائع کے مطابق سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر انہیں جیل تک رسائی نہیں دی گئی۔