غیر ملکی سرمایہ کاروں کے سوا پاکستان کی کاروباری برادری نے پیر کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے شرحِ سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھنے کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا، اس اقدام کو ’ترقی مخالف‘ اور صنعتی مسابقت کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔

نجی اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق تجارت اور صنعت کی سرکردہ شخصیات طویل عرصے سے مرکزی بینک سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ شرحِ سود کو سنگل ڈیجٹ (10 فیصد سے کم) پر لایا جائے تاکہ صنعتی سرگرمی بحال ہو اور برآمدات میں اضافہ ممکن ہو، تاہم اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے محتاط رویہ اپنایا اور عالمی اشیا کی غیر مستحکم قیمتوں، تجارتی کشیدگی اور ملکی سپلائی چین میں رکاوٹوں کو معاشی خطرات کے طور پر پیش کیا۔

اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے چیف ایگزیکٹو اور سیکریٹری جنرل ایم عبدالعلیم نے اسٹیٹ بینک کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ’درآمدات تیزی سے بڑھ رہی ہیں جبکہ برآمدات دباؤ کا شکار ہیں، ہمیں اس مرحلے پر شرح میں کمی کی کوئی گنجائش نظر نہیں آتی تھی، اس لیے استحکام برقرار رکھنا ایک دانشمندانہ فیصلہ ہے‘۔

اس کے برعکس فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ ستمبر کی 5.

6 فیصد افراطِ زر کو مدِنظر رکھتے ہوئے شرحِ سود کو 7 فیصد تک کم کیا جانا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ شرح سود میں کمی نہ صرف ترقی کو تیز کرے گی بلکہ حکومت کے قرضوں کا بوجھ تقریباً 3.5 کھرب روپے کم کر دے گی، جو مالیاتی دباؤ میں بڑی کمی لائے گی۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ سنگل ڈیجٹ شرحِ سود پیداواری لاگت کم کرے گی، اشیا کو سستا بنائے گی اور مہنگائی کو قابو میں رکھنے میں مدد دے گی، انہوں نے خبردار کیا کہ بلند شرحِ سود مالی رسائی کو محدود کرتی ہے اور ترقی کی رفتار سست کر دیتی ہے۔

کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد ریحان حنیف نے کہا کہ معمولی سی کمی بھی مثبت اشارہ ثابت ہوتی، اگر شرح کو 9 فیصد تک لانا ممکن نہیں تھا تو کم از کم 10 فیصد تک کمی کی جا سکتی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے قرضے اب بھی بلند سطح پر ہیں جبکہ نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی محدود ہے، شرح سود 22 فیصد کی تاریخی بلند سطح سے کم ہونے کے باوجود 11 فیصد کی موجودہ شرح کاروباروں کے لیے بوجھ بنی ہوئی ہے۔

محمد ریحان حنیف نے خبردار کیا کہ صنعتیں پہلے ہی توانائی اور گیس کے تاریخی بلند نرخوں سے نبرد آزما ہیں، اگر حکومت واقعی صنعتی سرگرمیوں کو بحال کرنا، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور برآمدات بڑھانا چاہتی ہے تو اسے فوری طور پر شرحِ سود اور یوٹیلیٹی اخراجات دونوں کم کرنے ہوں گے۔

کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے صدر محمد اکرام راجپوت نے کہا کہ بلند شرحِ سود نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے قرض حاصل کرنا تقریباً ناممکن بنا دیا ہے، جس سے پیداوار، برآمدات اور روزگار پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ’اگر پالیسی سازوں نے صنعت کے خدشات کو نظر انداز کیا تو بحالی مزید مشکل ہو جائے گی‘۔

سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے صدر احمد عظیم علوی نے کہا کہ وزیر اعظم کی معیشت کو صنعتی مراعات کے ذریعے بحال کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ مسلسل چوتھی بار ہے کہ شرحِ سود میں کمی نہیں کی گئی، جو وزیر اعظم کے معاشی وژن سے متصادم ہے‘۔

پاکستان کیمیکلز اینڈ ڈائیز مرچنٹس ایسوسی ایشن نے کہا کہ سستی مالیاتی سہولت کے بغیر پائیدار ترقی اور سرمایہ کاری کی بحالی ممکن نہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: اینڈ انڈسٹری نے کہا کہ انہوں نے کے صدر

پڑھیں:

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔

متعلقہ مضامین

  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری