آزاد کشمیر میں حکومت کی تبدیلی پر مسلم لیگ ن کا پیپلز پارٹی کو ووٹ نہ دینے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مظفر آباد: آزاد کشمیر میں متوقع ان ہاؤس تبدیلی کے معاملے پر مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس کی اندرونی تفصیلات ذرائع کے ذریعے سامنے آگئی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اجلاس میں وفاقی وزرا احسن اقبال، رانا ثناءاللہ اور وزیرِ امورِ کشمیر انجینئر امیر مقام نے شرکت کی، جبکہ مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر، سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان سمیت پارٹی کی پارلیمانی پارٹی کے ارکان اور مرکزی عہدیداران بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔
اجلاس میں آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال، ممکنہ ان ہاؤس تبدیلی، اور مستقبل کی حکمتِ عملی پر تفصیلی مشاورت کی گئی، ن لیگ نے آزاد کشمیر میں حکومت کی تبدیلی کے معاملے پر اپنی مشاورت مکمل کر لی ہے اور فیصلہ کیا گیا ہے کہ پارٹی نئے وزیراعظم کے انتخاب میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کو ووٹ نہیں دے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) حکومت کی تبدیلی کے عمل میں پیپلز پارٹی کا ساتھ دے گی لیکن نئی حکومت میں شامل نہیں ہوگی، پارٹی رہنماؤں نے مؤقف اختیار کیا کہ تحریکِ عدم اعتماد اور قائدِ ایوان کے انتخاب دو الگ معاملات ہیں، اس لیے پارٹی اس حوالے سے اپنی خودمختار پالیسی برقرار رکھے گی۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ پیپلز پارٹی سے آزاد کشمیر میں جلد انتخابات کے انعقاد سے متعلق مشاورت کی جائے گی تاکہ سیاسی عمل کو شفاف اور مستحکم بنایا جا سکے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ اجلاس کے دوران سیاسی رابطہ کمیٹی نے آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کو پیپلز پارٹی سے طے شدہ فارمولا پر اعتماد میں لیا جبکہ آئندہ کی سیاسی حکمتِ عملی پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس دوران آزاد کشمیر کی قیادت سے مستقبل کے لائحہ عمل اور تجاویز بھی طلب کی گئیں۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں طے پایا کہ سیاسی رابطہ کمیٹی وزیراعظم شہباز شریف کو وطن واپسی پر اجلاس کی تمام تفصیلات اور سفارشات سے آگاہ کرے گی، مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر میں سیاسی استحکام اور شفافیت کو ترجیح دے رہی ہے اور کسی بھی ایسے عمل کا حصہ نہیں بننا چاہتی جو خطے میں غیر یقینی سیاسی صورتحال پیدا کرے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی اجلاس میں مسلم لیگ
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔