آن لائن ٹیکسی ڈرائیور کے ہراساں کرنے کا کیس، خاتون کا 1 کروڑ ہرجانے کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
—فائل فوٹو
سٹی کورٹ کراچی میں واقع کنزیومر کورٹ شرقی میں آن لائن ٹیکسی سروس کے ڈرائیور کی جانب سے ہراساں کرنے کے کیس میں خاتون مسافر کی کمپنی کے خلاف 1 کروڑ روپے سے زائد ہرجانے کے دعوے پر سماعت ہوئی۔
دورانِ سماعت آن لائن ٹیکسی کمپنی کی جانب سے وکیل عدالت میں پیش ہوئے۔
عدالت نے درخواست کی کاپی کمپنی کے وکیل کو فراہم کرنے کی ہدایت کر دی اور 15 نومبر تک ان کو جواب جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔
یہ بھی پڑھیے خاتون کو ہراساں کرنے والا آن لائن ٹیکسی ڈرائیور گرفتار،مقدمہ درج آن لائن ٹیکسی ڈرائیور کی ضمانت منظوردرخواست گزار خاتون نے عدالت سے یہ استدعا بھی کی کہ کمپنی کو صارف کو تحریری معافی نامہ بھی دینے کا حکم دیا جائے۔
درخواست گزار متاثرہ خاتون کے وکیل طاہر شبیر ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ سفر کے دوران ڈرائیور نے خاتون سے نامناسب اور مجرمانہ طرز عمل کا مظاہرہ کیا۔
درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ مسافر خاتون کو اپنی حفاظت کے لیے چلتی گاڑی سے چھلانگ لگانا پڑی، کمپنی کسٹمر سپورٹ کو واقعے کی اطلاع دی، نیو ٹاؤن تھانے میں مقدمہ بھی درج کروایا۔
درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کمپنی کی جانب سے شکایت پر کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی، ڈرائیور کی تربیت اور اس کے ریکارڈ کی تصدیق نہ ہونا کمپنی کی غلطی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ا ن لائن ٹیکسی درخواست گزار کے وکیل
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز