بالی ووڈ اداکار انیل کپور پشاور آنے کے لیے کیوں ترس رہے ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
بالی ووڈ اداکار انیل کپور کی ایک پرانی ویڈیو ایک بار پھر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے، جس میں وہ یہ بتاتے ہوئے نظر آرہے ہیں کہ ان کا تعلق پشاور سے ہے اور پشاور جانے کو ترس رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’میری خواہش ہے کہ اپنے بچوں کو پاکستان لے جاسکوں‘، شاہ رخ خان کی ویڈیو وائرل
یہ ویڈیو دراصل اکتوبر 2022 میں بی بی سی اُردو کو لندن اسٹوڈیو میں دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران ریکارڈ کی گئی تھی۔ گفتگو کے دوران انیل کپور نے رپورٹر سے بات چیت کرتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ ان کے والد اور دادا کا تعلق پشاور سے ہے۔
بی بی سی اُردو نے اس ویڈیو کو 3 سال قبل اپنے یوٹیوب چینل پر شیئر کیا تھا، جس میں انیل کپور کو رپورٹر سے نہایت خوشگوار انداز میں اُردو میں گفتگو کرتے اور لاہوتی گلی کا ذکر کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔
نیل کپور کا کہنا ہے کہ وہ تو پاکستان جانے اور پشاور میں اپنے آباؤ و اجداد کا گھر دیکھنے کے لیے ترس رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بالی ووڈ پاکستانی گانوں کی چوری میں بھی نمبر ون
مداحوں کی جانب سے یہ ویڈیو ایک بار پھر بڑے پیمانے پر شیئر کی جارہی ہے اور سوشل میڈیا صارفین انیل کپور کے پاکستانی نژاد پس منظر پر دلچسپ تبصرے کر رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news انیل کپور بالی ووڈ پاکستان پشاور لاہوتی گلی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انیل کپور بالی ووڈ پاکستان پشاور انیل کپور بالی ووڈ رہے ہیں
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔