فیصل آباد میں ٹیکسٹائل کے جدید ترین ادارے کئی بین الاقوامی برانڈز کیلیے مصنوعات تیار کر رہے ہیں،ترجمان پی ٹی ای اے
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
فیصل آباد (کامرس ڈیسک ) پاکستان میں ٹیکسٹائل کی ترقی کپاس کی پیداوار سے منسلک ہے جبکہ فیصل آباد میں ٹیکسٹائل کے بعض جدید ترین ادارے کئی بین الاقوامی برانڈز کیلئے مصنوعات تیار کر رہے ہیں لیکن شہر کے ہزاروں چھوٹے اور درمیانے درجے کے یونٹس پرانی ٹیکنالوجی کی وجہ سے اپنی مصنوعات عالمی منڈیوں میں متعارف نہیں کرا سکے۔پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے ترجمان نے بتایا کہ ٹیکسٹائل کے شعبہ کی پائیدار ترقی کیلئے ویلیو ایڈیشن کے ساتھ ساتھ موجودہ درآمدات کی مقامی طو رپر تیاری کیلئے بھی جامع اور طویل المیعاد منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل کو پاکستان کی معیشت میں کلیدی حیثیت حاصل ہے جبکہ ملک کی ٹیکسٹائل کی مجموعی برآمدات میں فیصل آباد کا حصہ 55 فیصد سے بھی زائد ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فیصل ا باد
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔