ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیلیے شکیل احمد نیا اسٹیٹ کونسل مقرر
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251126-01-9
اسلام آباد (آن لائن)ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیخلاف متنازع ٹوئٹ کیس میں دونوں میاں بیوی کیلیے شکیل احمد کو نیا اسٹیٹ کونسل مقرر کر دیا۔ منگل کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازع ٹوئٹ کیس کی سماعت ہوئی،ملزمان میاں بیوی نے اسٹیٹ کونسل تبدیل کرنے کی استدعاکی،عدالت نے استدعا منظور کرتے ہوئے دونوں ملزمان کیلیے اسٹیٹ کونسل تبدیل کر دیا۔ایمان مزاری اورہادی علی چٹھہ نے عدالت کی جانب سے پہلے مقرر کیے گئے اسٹیٹ کونسل پر اعتراض کیا تھا۔ ان کے وکلا نے اسٹیٹ کونسل کی حمزہ شہبازکے ساتھ تصاویر پیش کیں،اورسیاسی وابستگی کے باعث اسے ہٹانے کا کہا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسٹیٹ کونسل ایمان مزاری علی چٹھہ
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔